اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کے حصول کی غرض سے کوششوں میں افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ مکمل تعاون تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، یہ مسئلہ افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں سیاسی عمل اور مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ …
پاکستان اور ایران کے درمیان علاقائی صورتحال بالخصوص افغانستان سے متعلق پہلا باضابطہ مشاورتی اجلاس
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کے حصول کی غرض سے کوششوں میں افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ مکمل تعاون تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، یہ مسئلہ افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں سیاسی عمل اور مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اس امر کا اظہار پاکستان اور ایران کے درمیان علاقائی صورتحال بالخصوص افغانستان سے متعلق پہلے باضابطہ مشاورتی اجلاس میں کیا گیا جو بدھ کو یہاں منعقد ہوا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرلز کی سطح کا پہلا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل (افغانستان) منصور احمد خان نے پاکستانی وفد جبکہ ایران کے وفد کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل رسول اسلامی نے کی۔ دونوں ڈائریکٹر جنرلز نے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کے حصول کیلئے عالمی برادری اور افغانستان کی کوششوں میں مکمل تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔ انہوں نے افغان مسئلہ کے حل کیلئے سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔








