پاکستان اور فلپائن کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

منیلا ۔20فروری (اے پی پی):پاکستان اور فلپائن کے مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا دوسرا اجلاس فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور فلپائن کے محکمہ تجارت و صنعت کے انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی تجارت ایلن بی گیپٹی نے کی۔ اجلاس میں فلپائن میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر عاصمہ ربانی اور پاکستان میں تعینات فلپائنی سفیر ڈاکٹر …

منیلا ۔20فروری (اے پی پی):پاکستان اور فلپائن کے مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا دوسرا اجلاس فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور فلپائن کے محکمہ تجارت و صنعت کے انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی تجارت ایلن بی گیپٹی نے کی۔ اجلاس میں فلپائن میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر عاصمہ ربانی اور پاکستان میں تعینات فلپائنی سفیر ڈاکٹر ایمانوئل فرنانڈیز سمیت اعلیٰ حکام نےشرکت کی۔

فریقین نے عالمی اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی اپنی معیشتوں کے منظرنامے اور تجارتی پالیسی ترجیحات سے متعلق تازہ معلومات شیئر کیں۔ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان نے زرعی اجناس اور حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات میں برآمدی مواقع کو اجاگر کیا اور کاروباری تبادلوں، تجارتی نمائشوں اور مخصوص بزنس فورم کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ فریقین نے نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا اور پاکستان۔فلپائن مشترکہ بزنس کونسل کو دوبارہ فعال بنانے کی حمایت کی۔

پاکستان نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعلقہ سرمایہ کاری بورڈز کے مابین مفاہمتی یادداشت اور سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز بھی دی۔ اجلاس میں مارکیٹ تک رسائی کے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی، پاکستان نے اپنی زیر التواء درخواستوں کے جلد حل پر زور دیا اور دونوں فریقوں نے قائم کردہ چینلز کے ذریعے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اجلاس میں ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کے امکان کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ آئندہ پیش رفت کے لیے فزیبلٹی سٹڈیز رہنمائی فراہم کریں گی۔ موجودہ جے ای سی فریم ورک کو مزید مضبوط بنا کر شعبہ جاتی تعاون کو وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا۔

شعبہ جاتی گفتگو میں زراعت، آبپاشی اور آبی نظم و نسق، حلال ترقی، صحت اور دواسازی، بینکاری اور ٹیکس امور، اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت (ٹی وی ای ٹی)، توانائی اور معدنیات، سیاحت اور ویزا سہولت کاری شامل تھے۔ زراعت کے شعبے میں بیجوں کی تیاری، اقسامِ نباتات کے تحفظ، معیار کی یقین دہانی اور کمیونٹی بنیادوں پر آبپاشی اقدامات میں تعاون پر زور دیا گیا۔ حلال ترقی کے ضمن میں تعمیل سے متعلق تربیت، سرٹیفکیشن کے تبادلے اور سپلائی چین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہی۔ صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک مخصوص ورکنگ گروپ کے ذریعے منظم تعاون، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور ادویات و طبی آلات کی تجارت میں سہولت پر بات چیت کی گئی۔

بینکاری اور ٹیکس کے شعبوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، ترسیلاتِ زر کے راستوں، مالیاتی جدت، نگران اداروں کے باہمی تعاون اور ڈبل ٹیکسیشن سے بچاؤ کے معاہدے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اعلیٰ تعلیم اور ٹی وی ای ٹی میں تعلیمی تبادلوں اور مہارتوں کی ترقی کے اقدامات کے ذریعے شراکت داری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ توانائی اور معدنیات کے شعبے میں بالائی سطحی تلاش (اپ سٹریم ایکسپلوریشن)، کان کنی کی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

سیاحت کے فروغ اور استعداد کار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی گئی، جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو سہل بنانے کے لیے، خصوصاً کاروباری سفر کے لیے، موثر اور قابلِ پیشگوئی ویزا طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اجلاس خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس میں پاکستان اور فلپائن نے اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور طے شدہ اقدامات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔