پاکستان اور ورلڈ بینک کا باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ، مختلف اہم شعبوں میں سٹریٹجک شراکت داری مزید گہری کرنے پر اتفاق

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):پاکستان اور ورلڈ بینک نے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف اہم شعبوں میں سٹریٹجک شراکت داری مزید گہری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ تعاون ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 کے تحت عمل میں لایا جائے گا جس کا مقصد …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):پاکستان اور ورلڈ بینک نے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف اہم شعبوں میں سٹریٹجک شراکت داری مزید گہری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ تعاون ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 کے تحت عمل میں لایا جائے گا جس کا مقصد معاشی ترقی میں تیزی، موثر حکمرانی اور مالیاتی خلا کو پُر کرنا ہے۔

یہ پیش رفت اسلام آباد میں وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور ورلڈ بینک کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ریجنل نائب صدر عثمان دیون کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ملاقات میں توانائی، غذائی تحفظ، زراعت، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اقتصادی امور نے حالیہ معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان اقدامات سے میکرو اکنامک استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور معاشی نمو میں بہتری آئی ہے۔

فریقین نے پاکستان میں ورلڈ بینک کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی افادیت بڑھانے، بین الشعبہ جاتی ہم آہنگی مضبوط کرنے اور نتائج پر مبنی عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سی پی ایف کا پہلا سال مستقبل میں بڑے اور موثر ترقیاتی اقدامات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔نائب صدر عثمان دیون نے حکومت پاکستان کی قیادت اور اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ورلڈ بینک کی مسلسل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا کا آئندہ دورہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا اہم موقع ثابت ہوگا۔دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نتائج پر مبنی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے عوام کے لیے ٹھوس سماجی و معاشی فوائد حاصل کیے جائیں گے۔