اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بے مثال، باہمی اعتماد، دوستی اور شراکت داری پر استوار ہیں۔پی ٹی وی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ رشتہ اعتماد اور بھائی چارے پر محیط ہے جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شراکت بیرونی اثرات سے …
پاکستان اور چین کے تعلقات بے مثال، باہمی اعتماد، دوستی اور شراکت داری پر استوار ہیں، سفیرخلیل ہاشمی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بے مثال، باہمی اعتماد، دوستی اور شراکت داری پر استوار ہیں۔پی ٹی وی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ رشتہ اعتماد اور بھائی چارے پر محیط ہے جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شراکت بیرونی اثرات سے متاثر نہیں ہوتی اور خالصتاً دو طرفہ ترجیحات کی بنیاد پر پروان چڑھ رہی ہے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی حمایت پر چین کے کردار کو سراہا اور کہا کہ جہاں بیجنگ نے عوامی سطح پر پاکستان کی حمایت کے ساتھ بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنی اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جا رہے ہیں جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) کے روابط پر بھرپور توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ چین کو برآمدات کے لیے 21 ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے، مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) کے روابط کو فروغ دینے کے لیے کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال اپنی پہلی بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جس میں 105 پاکستانی کمپنیوں اور 250 چینی فرمز نے شرکت کی تھی۔
اس تقریب کے نتیجے میں ایک ہی دن میں 1000 سے زیادہ اجلاس ہوئے، جس کے نتیجے میں 30 مفاہمت کی یاداشتیں (ایم او یو) طے پائیں جن میں سے 17 معاہدوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چھ صنعتی سرمایہ کاری روڈ شوز منعقد کیے گئے جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا اور فٹ ویئر، میڈیکل و سرجیکل آلات، خوراک و سبزیاں، پھل، ماہی گیری، فیڈ اور پلاسٹک شامل ہیں۔
ان روڈ شوز نے پاکستانی تاجروں کو چینی اداروں سے متعارف کرایا جس سے سرمایہ کاری کے مواقع میں سہولت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریق مواقع کو حقیقی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کاروباری روابط کو مضبوط کر رہے ہیں اور مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری روایتی تعاون سے ہٹ کر زیادہ با ہدف اور نتائج پر مبنی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے جو پائیدار ترقی کی ضامن ہے۔








