وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبے میں تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ حالیہ پاکستان چین فارماسیوٹیکل سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی شراکت داریوں پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبے میں تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ، وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبے میں تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ حالیہ پاکستان چین فارماسیوٹیکل سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی شراکت داریوں پر اتفاق کیا گیا۔
ہفتہ کو یہاں منعقدہ دو روزہ پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی سرگرمیاں محض ملاقاتیں اور مذاکرات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان صحت، فارماسیوٹیکل اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں اعتماد اور مشترکہ عزم کا مظہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت اور ویلیو ایڈیشن کو دوطرفہ تعلقات کا اہم محور بنایا گیا ہے جبکہ وزارت صحت اور متعلقہ ادارے سرمایہ کاروں کے لیے شفاف اور مؤثر ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔وفاقی سیکرٹری صحت کے مطابق کانفرنس کے دوران ابتدائی طور پر تقریباً 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کی شراکت داریوں پر اتفاق ہوا تاہم بعد ازاں یہ حجم 1.4ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹلائزیشن، خودکار نظام اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو، ہم ایسا جدید ریگولیٹری نظام تشکیل دے رہے ہیں جو جدت کی حوصلہ افزائی کرے اور ساتھ ہی معیار، حفاظت اور عوامی صحت کو یقینی بنائے۔وفاقی سیکرٹری صحت نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا اصل معیار معاہدوں کی تعداد نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ادویات کی مقامی پیداوار، روزگار کے نئے مواقع اور دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہوگی۔
انہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وزارت صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، بورڈ آف انویسٹمنٹ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے چینی وفد کا پاکستان پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔








