پاکستان اور یورپین یونین کا تجارت ، سرمایہ کاری ، تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت کثیر الجہتی سطح پر تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

سلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور یورپین یونین نے تجارت ، سرمایہ کاری ، تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت کثیر الجہتی سطح پر تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین منعقدہ سیاسی ڈائیلاگ کے چھٹے مرحلے کے دوران پایا گیا۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود پاکستانی اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی …

سلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور یورپین یونین نے تجارت ، سرمایہ کاری ، تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت کثیر الجہتی سطح پر تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین منعقدہ سیاسی ڈائیلاگ کے چھٹے مرحلے کے دوران پایا گیا۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود پاکستانی اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اینریک مورا یورپین وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ اجلاس کے دوران پاک۔یورپین یونین دو طرفہ امور اور علاقائی و بین الاقوامی معاملات سمیت مختلف امور زیر بحث لائے گئے۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان اہم بین الاقوامی شراکت دار کی حیثیت سے یورپین یونین کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور فریقین کے درمیان سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔سیکرٹری خارجہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان یورپین یونین کیساتھ موجودہ تعاون بالخصوص تجارت،سرمایہ کاری،تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس سکیم سے متعلق 27 یو این کنونشنز پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے۔سہیل محمود نے انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا اور قانونی امیگریشن کیلئے نئے چینلز کھولنے کا مطالبہ کیا۔فریقین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے (وزرا خارجہ کی سطح پر)سٹریٹجک ڈائیلاگ اور سربراہان کی سطح پر روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔سیکرٹری خارجہ نے کوویڈ 19 کے تناظر میں معیشت کی بہتری اور پسماندی طبقات کی سہولت کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدمات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ‘سمارٹ لاک ڈاون’ کی پاکستانی سٹریٹجی کو عالمی ادارہ صحت سمیت عالمی سطح پر سراہا گیا۔سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ کوویڈ 19کی وجہ سے عالمی تجارت سمیت یورپی یونین میں پاکستانی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نیتوقع ظاہرکی کہ پاکستان اور یورپی یونین مختلف شعبوں میں تجارت بڑھانے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔سیکرٹری خارجہ نے افغان امن عمل میں پاکستان کی مثبت کردار کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ طالبان امن معاہدہ نے ایک تاریخی موقع پیدا کیا ہے اور تمام افغان اسٹیک ہولڈرز کو ایک جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ کیلئے انٹرا افغان مذاکرات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔سیکرٹری نے یورپین یونین کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارتی اقدامات سے خطے میں امن و استحکام سے شدید خطرات لا حق ہیں۔سیکرٹری خارجہ نے عالمی سطح پر اسلامو فوبیا میں اضافے کے معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے امیدظاہر کی کہ اظہار رائے کی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔