پاکستان اپنی تاریخ کا پہلا مربوط قومی توانائی منصوبہ تیار کر رہا ہے، چینی کمپنیوں کو ملک میں بیٹری مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے، سردار اویس احمد خان لغاری
پاکستان اپنی تاریخ کا پہلا مربوط قومی توانائی منصوبہ تیار کر رہا ہے، چینی کمپنیوں کو ملک میں بیٹری مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے، سردار اویس احمد خان لغاری
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کا پہلا مربوط قومی توانائی منصوبہ تیار کر رہا ہےجبکہ چینی کمپنیوں کو ملک میں بیٹری مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے، محدود بین الاقوامی مالی تعاون کے باوجود پاکستان میں صاف توانائی کی جانب منتقلی عوام کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے۔منگل کو قابل تجدید توانائی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ آئندہ سال تک پانچ سالہ جامع قومی توانائی منصوبہ حتمی شکل دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حکمت عملی کے تحت بجلی، پٹرولیم، ٹرانسپورٹ، صنعت اور صوبائی شعبوں کو ایک مشترکہ روڈ میپ کے تحت یکجا کیا جائے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں برقی کاری کو فروغ، توانائی کے تحفظ کو مضبوط اور فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے۔بین الاقوامی مندوبین کے سوالات کے جواب میں سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان دنیا میں عوام کی جانب سے شمسی توانائی اپنانے کی تیز ترین مہمات میں سے ایک کی مثال قائم کر چکا ہےجس کے باعث سولر پینلز اور بیٹری سٹوریج کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے چینی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں بیٹری ویلیو ایڈیشن اور اسمبلنگ کے کارخانے قائم کریں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 ماہ کے دوران تقریباً 6 ہزار میگاواٹ آور بیٹریاں درآمد کی جا چکی ہیں جو اس شعبے میں وسیع کاروباری امکانات کی عکاسی کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کے دوران معروف چینی بیٹری ساز کمپنیوں سے بھی اس حوالے سے بات چیت ہوئی۔ بعض کمپنیوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی موجودہ مارکیٹ بڑے پیمانے پر بیٹری سیل مینوفیکچرنگ کے لیے ابھی محدود ہےتاہم ڈائون اسٹریم مینوفیکچرنگ اوراسمبلنگ مکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر قابل عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاون صنعتی پالیسیوں کے ذریعے مقامی ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔
افرادی قوت کی تیاری پر روشنی ڈالتے ہوئے سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان ہزاروں تربیت یافتہ سولر ٹیکنیشنز تیار کر چکا ہےجبکہ اب بیٹری سٹوریج اور جدید توانائی نظام سے متعلق فنی تربیت کو بھی ووکیشنل اداروں کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی ہنر ترقی پروگرام میں بیٹری ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی سفارش بھی کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت وقت کے مطابق بجلی کے نرخ (Time-of-Use Tariff) متعارف کرانے پر کام کر رہی ہےجس کے تحت دن کے اوقات میں کم لاگت والی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ اس سے بیٹری سٹوریج، قابل تجدید توانائی کے موثر استعمال اور قومی گرڈ کے استحکام میں مدد ملے گی تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بعض شرائط اس نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔انہوں نےبتایا کہ حکومت بجلی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایک جامع پروگرام بھی شروع کر رہی ہےجس میں ڈیجیٹل میٹرنگ اور ٹرانسفارمر کی بنیاد پر کاروباری یونٹس کا قیام شامل ہےتاکہ بجلی کے بہائو کا بہتر انتظام اور قابل تجدید توانائی کا موثر انضمام ممکن بنایا جا سکے۔
موسمیاتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نےترقی یافتہ ممالک پر تنقید کی کہ انہوں نے عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کے معمولی حصے کے باوجود صاف توانائی کی منتقلی کے لیے خاطر خواہ مالی تعاون فراہم نہیں کیا۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب بنیادی طور پر عوام کی اپنی سرمایہ کاری سے ممکن ہوا ہے، نہ کہ بین الاقوامی گرین فنانسنگ سے۔سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت بجلی سبسڈی کے نظام میں بھی اصلاحات کر رہی ہے تاکہ امداد صرف حقیقی مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں تک پہنچے اور سبسڈی کے غلط استعمال کا خاتمہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برس کے دوران ان اصلاحات کے نتیجے میں لاکھوں کمرشل اور متوسط آمدنی والے صارفین کے لیے بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مربوط منصوبہ بندی، قابل تجدید توانائی کے فروغ، ہدفی سبسڈی، بجلی کے نظام کی جدید خطوط پرڈیجیٹلائزیشن اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے توانائی شعبے کو جدید اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرے گی۔









