پاکستان اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):پاکستان نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی کوشش کی ہے تاہم وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن "غضبُ الحق” کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ 28 جون کو ضلع باجوڑ میں چار دہشت گرد ہلاک کیے گئے جن میں ایک اہم خوارج کمانڈر خان فروش عرف زبال بھی شامل تھا جبکہ دیگر تین دہشت گرد بھارت کے حمایت یافتہ گروہ جماعت الاحرار سے تعلق رکھتے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 29 جون کو افغانستان کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے ڈیمارش دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام کے حوالے کیا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ احتجاجی مراسلے اس حقیقت کے تناظر میں جاری کیے گئے کہ کراچی حملے میں افغان شہری ملوث تھے جن میں ایک حملہ آور کو زندہ گرفتار کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے مطابق یہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ 10 جولائی سے پاکستان میں بغیر کارآمد ویزے کے مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔