اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان بیت المال (پی بی ایم) نے اب تک کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے 1,944 کوکلیئر امپلانٹ سرجری کی سہولت فراہم کی ہے ، پانچ سال کی عمر سے قبل ابتدائی علاج کے ذریعے خاموشی کو آواز میں تبدیل کیا گیا ہے جو بچوں کے وقار کی بحالی اور …
پاکستان بیت المال نے کلیئر امپلانٹ کی مالی اعانت سے 1,944 بچوں کی سماعت بحال کی ہے،خالد شاہین بٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان بیت المال (پی بی ایم) نے اب تک کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے 1,944 کوکلیئر امپلانٹ سرجری کی سہولت فراہم کی ہے ، پانچ سال کی عمر سے قبل ابتدائی علاج کے ذریعے خاموشی کو آواز میں تبدیل کیا گیا ہے جو بچوں کے وقار کی بحالی اور امید کی جانب ایک قدم بھی ہے ۔
اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر نے پی بی ایم کے جامع صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کو بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ بیت المال شراکت داروں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بچہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے ضروری علاج سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہایہ بچے ہمارے مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں،جن میں سے کچھ ڈاکٹر بنیں گے، باقی سائنس دان، انجینئر اور لیڈر، ان کی سننے کی صلاحیت کی بحالی ایک زیادہ جامع اور خوشحال معاشرے کی طرف ایک طاقتور قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوکلیئر امپلانٹس کی قیمت تقریباً 2.1 ملین روپے فی بچہ ہے جو مستقل معذوری کو دور کر نے کے لیے پانچ سال کی عمر سے پہلے لگائی جاتی ہے تاہم معاشی رکاوٹیں ہزاروں خاندانوں کے لیے اس طریقہ کار کو ناقابل رسائی بنا دیتی ہیں۔
پی بی ایم کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے نے نہ صرف زندگی بدلنے والی اس ٹیکنالوجی کو ترجیح دی ہے بلکہ طبی امداد اور تعلیم سے متعلق پہلے سے زیر التوا تمام درخواستوں کو بھی نمٹایا گیا ہے۔ ہسپتالوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، مخیر حضرات کی فراخدلی سے شراکت اور بیت المال کی داخلی اصلاحات نے اس وژن کے فروغ میں مدد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار کسی بچے کو آواز کا جواب دیتے ہوئے دیکھنا ایک ایسا خوشگوار تجربہ ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا ہے، اس لیے ہمیں تیزی سے کام کرنا چاہیے کیونکہ تقریباً 4,500 خاندان اب بھی انتظار کر رہے ہیں اور وقت تیزی سے گذر رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان بھر کے اداروں اور عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مشن کے تحت متحد ہو کر ہر بچے کے آواز اور بولنے کے حق کو محفوظ بنائیں۔ہر کوکلیئر امپلانٹ جو فراہم کیا جاتا ہے نہ صرف بچے کے لیے بلکہ ایک پورے خاندان کے لیے جو خاموش غم میں مبتلا ہے ، ان کیلئے شفا یابی کا عمل ہے ۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو بیماری اور غربت کے باعث ہونے والے استحصال سے بچانے میں ناکامی ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ناقابل معافی داغ چھوڑے گی۔ پاکستان بیت المال کا اقدام ہمدردی، ترقی اور قومی لچک کا روشن مینار ہے جو محرومیوں سے پاک مستقبل کے لیے دلی دعا ئوں سے مزین ہے،جہاں ہر ممکنہ پھول پنپتا ہے اور کوئی بچہ خاموش نہیں ر ہے گا۔
منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ڈاکٹر ذیشان دانش کی رہنمائی میں پی بی ایم کے ڈائریکٹر جنرل نے آپریشنل شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔
اس میں عملے کے تربیتی پروگرام کا آغاز ، مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن یونٹس کو متحرک کرنا، ادارہ جاتی پالیسیوں کی تشکیل نو، حوالہ کی تازہ ترین شرائط کے ساتھ جدید طریقہ کار کی سفارش کرنا اور تمام عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل میکانزم کا آغاز شامل ہے۔
ڈی جی پی بی ایم نے کہا کہ پی بی ایم بیماریوں کے خاتمے اور جینیاتی امراض سے نمٹنے کی راہ ہموار کر رہا ہے تاکہ ریاست پر صحت کی دیکھ بھال کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ٹارگٹڈ بیماریوں سے متعلق آگاہی پروگراموں کے ذریعے اس میں کمی لائی جا سکے۔ اس اقدام کے طور پر پاکستان بیت المال نے پہلی بار پاکستان کینسر آگاہی پروگرام (P-CAP) کا آغاز کیا ہے۔








