اسلام آباد ۔ 26 جنوری (اے پی پی)پاکستان بیت المال کے مینجنگ ڈائریکٹر عون عباس نے کہا ہے کہ ملک بھر کے مستحق نادار افراد کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ کی سہولیات تک سہل رسائی اور سرکاری شعبہ کی جامعات کے مستحق طلباءکو تعلیمی وظائف کی فراہمی ترجیح ہے، بیواﺅں اور یتیموں کی کفالت وبا اختیاری اور خصوصی افراد بالخصوص پیدائشی طور پر قوت سماعت سے محروم بچوں کوکم …
پاکستان بیت المال کے مینجنگ ڈائریکٹر عون عباس کی اے پی پی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 جنوری (اے پی پی)پاکستان بیت المال کے مینجنگ ڈائریکٹر عون عباس نے کہا ہے کہ ملک بھر کے مستحق نادار افراد کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ کی سہولیات تک سہل رسائی اور سرکاری شعبہ کی جامعات کے مستحق طلباءکو تعلیمی وظائف کی فراہمی ترجیح ہے، بیواﺅں اور یتیموں کی کفالت وبا اختیاری اور خصوصی افراد بالخصوص پیدائشی طور پر قوت سماعت سے محروم بچوں کوکم ازکم اذان کی آواز سننے کے قابل بنانے کے لئے سمعی آلات، وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضاءکی فراہمی کے لئے بیت المال اپنی ذمہ داریاں انتہائی حساسیت کے تحت سر انجام دے رہا ہے، دارالاحساس کی تعداد 36 سے بڑھاکر 55 کر دی گئی ہے جو رواں سال 80 کر دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی خبر رساں ادارہ ”اے پی پی“ کے دورہ اور خصوصی پینل انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ادارے کے مختلف شعبوں کا بھی دورہ کیا۔ اے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غواث خان اور ڈائریکٹر نیوزشفیق قریشی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈائریکٹر نیوز شفیق قریشی نے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کو مصدقہ خبروں، تصاویر، اور ویڈیونیوز رپورٹس کی فراہمی اور کثیر زبانوں میں خبروںکے اجراءکے حوالے سے اے پی پی کے پیشہ وارانہ امور پر معزز مہمان کو بریفنگ دی۔ مینجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی نے قومی خبر رساں ادارے کی پیشہ وارانہ خدمات کو سراہا اور کہا کہ موقر اور مصدقہ خبروں کی فراہمی کے حوالے سے ” اے پی پی“ کا منفرد کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے مینجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں، 15 ماہ میں خدمت کا جو موقع ملا اس سے پہلے کبھی نہیں ملا وزیر اعظم عمران خان نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اترنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال تربت سے ہنزہ تک سرکاری شعبہ کی 80 جامعات کے مستحق اور قابل طلباءکو تعلیمی وظائف کے حوالے سے خود خطوط ارسال کئے تاکہ ادارہ اعلی تعلیم کے لئے بھی حکومتی کوششوں میں حصہ ڈال سکے، انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کی 40 یونیورسٹیوں کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہو گئے ہیں جس کے تحت مستحق اورر قابل طلباءکے لئے ایک لاکھ روپے تک تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے جبکہ باقی ماندہ یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی جلد ایم او یو دستخط کر لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے محدود وسائل کے باوجود اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک بھر کی سرکاری شعبہ کی جامعات کے 8500 مستحق طلباء کو گزشتہ ایک سال کے دوران تعلیمی وظائف فراہم کئے ۔ پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی نے بتایا کہ اس وقت مستحق طلبہ کو ایک لاکھ روپے تک کے وظائف کی ادائیگی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے اس پروگرام کے تحت پچاس فیصد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال نے پہلے ہی 80 سرکاری شعبہ کی جامعات کو خطوط ارسال کر چکا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے 50 فیصد مستحق طالبات کو یقینی بناتے ہوئے مستحق طلباء کے نام تعلیمی وظائف کے لئے بھجوائیں۔ اعلی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مستحق طلبہ و طالبات کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کے لئے بیت المال 40 یونیورسٹیوں کے ساتھ پہلے ہی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔ پاکستان بیت المال نے رواں مالی سال کے دوران 2633 طلبہ و طالبات کو تعلیمی اعانت فراہم کر چکا ہے اور 18 ہزار 375 طلباءو طالبات کو تعلیمی وظیفے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ گزشتہ برس 47 ہزار طلباءکو تعلیمی وظائف اور 40 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیمی اعانت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 55 تھیلیسیمیا سنٹر ملک بھی میں کام کر رہے ہیں جہاں مستحق بچوں کومحفوظ انتقال خون کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پتے کے بڑھنے کے تدارک کے لئے بھی 10 ہزار روپے کی مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال کے رفاحی کاموں میں سفارش اور بد عنوانی کا عنصر صفر ہے جس سے ادارے کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوا ہے ملک بھر میں عملہ کو تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ خوش گفتار اور خوش لباس عملہ بہتر انداز میں استفادہ کرنے والوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے 2 ارب روپے اور کینسر کے مریضوں کو 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج کرانے کے لئے اعانت کی گئی ہے۔ ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ یتیم بچوں کے لئے دارالاحساس 36 تھے موجودہ حکومت کے آنے کے بعد یہ تعداد 55 ہو گئی ہے اور رواں سال کے دوران یہ تعداد 80 ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دارالاحساس مراکز میں دینی و عصری علوم کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیم و تربیت، معیاری غذائیت سے بھر پور خوراک اور رہائش کا بہترین ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ عون عباس بپی نے کہا کہ آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام کے لئے پاکستان بیت المال نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو خطوط ارسال کئے ہیں تاکہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلیٹی (سی ایس آر) کے تحت آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام کے لئے پاکستان بیت المال کے ہاتھ مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام کے لئے فنڈز کے حصول کے لئے پاکستان بیت المال دن رات کو شاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو خطوط ارسال کئے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ سماجی خدمت کے حوالے سے اس سے بہتر کوئی خدمت نہیں ہے اس لئے کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلیٹی کے تحت آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام میں حصہ لیں۔ پاکستان بیت المال نے اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دینے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماعت سے محروم بچوں میں کوکلیئر آلہ لگانے کے علاج پر 13 سے 18 لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں لیکن فنڈز کی قلت کا سامنا تھا جس پر پاکستان بیت المال نے مخیر اداروں سے عطیات اکٹھا کرنا شروع کر دیئے ہیں اور صرف ایک خاندان نے اس حوالے سے اپنی زکوة سے 11 کروڑ روپے کا عطیہ پاکستان بیت المال کو فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 534 افراد کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے اور 8 سال تک کی عمر کے بچوں کے علاج کے لئے 4 ہسپتالوں نے 10لاکھ میں علاج کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کا معاہدہ آئندہ پیر کو طے پا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے اس پروگرام پر بات ہوئی ہے جنہوں نے 50 کروڑ روپے دینے کا یقین دلایا ہے۔ ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ اس قدم سے ایسے بچے کم از کم اذان کی آواز سن سکیں گے وہ جب بولیں گے وزیر اعظم عمران خان کو دعا ضرور دیں گے۔ عون عباس بپی نے کہا کہ اس کے علاوہ خواتین کو با اختیار، ہنر مند اور روزگار کے قابل بنانے کا بھی ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت نیوٹیک کے ذریعے تربیت اور خواہش مند خواتین کواپنے کاروباری پلان کے مطابق 25 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک کے آسان شرائط کے دو سالہ مدت کے قرضے بھی فراہم کئے جا رہے ہیں تا کہ وہ با عزت روزگار کما کر خاندان کی کفالت کر نے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کے سکول سے باہر بچوں کو سکول لانے کے لئے بھی ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ہر بچے کو10روپے اور ان کے والدین کوبھی10 روپے فراہم کئے جاتے تھے، لیکن اس پروگرام کو ماڈرن سکول کی طرز پر متعارف کرانے جا رہے ہیں جہاں 100 بچوں کو مفت تعلیم، یونیفارم اور کتب دی جائیں گی جبکہ 100بچے فیس ادائیگی کے ساتھ تعلیم حاصل کریںگے جس کا مقصد نادار بچوں کو یکساں اور معیاری تعلیمی سہولیات اور ماحول کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلہ سماعت فراہم کرنے والے ایل آر بی ٹی جیسے اداروں کے تعاون سے بھی معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان بیت المال کسی مستحق مریض کو آلہ سماعت فراہم کرنے پر 1500 روپے فراہم کرے گا اس پرو گرام پر 4کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ جرمانے ادا نہ کر سکنے والے معمولی جرائم کے قیدی جو سزا پوری ہونے کے باو جود جیلوں میں بند پڑے ہیں کو رہائی دلانے کے لئے بھی پاکستان بیت المال کام کر رہا ہے اور جیل حکام سے ایسے قیدیوں کی فہرستیں طلب کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیدائشی طور پر پیچیدگی کے باعث سماعت سے محروم بچوں میں کوکلیئر آلہ لگانے کے علاج پر 13 سے 18 لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں لیکن فنڈز کی قلت کا سامنا تھا جس پر پاکستان بیت المال نے مخیر اداروں سے عطیات اکٹھا کرنا شروع کر دیئے ہیں اور صرف ایک خاندان نے اس حوالے سے اپنی زکوة سے 11 کروڑ روپے کا عطیہ پاکستان بیت المال کو فراہم کیا ہے، 534 افراد کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے اور 8 سال تک کی عمر کے بچوں کے علاج کے لئے 4 ہسپتالوں نے 10لاکھ میں علاج کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کا معاہدہ آئندہ پیر کو طے پا جائے گا، انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے اس پروگرام پر بات ہوئی ہے جنہوں نے 50 کروڑ روپے دینے کا یقین دلایا ہے، انہوں نے کہا کہ اس قدم سے ایسے بچے کم از کم اذان کی آواز سن سکیں گے وہ جب بولیں گے وزیر اعظم عمران خان کو دعا ضرور دیں گے۔ مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال نے کہا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت پہلے شجر کاری کا ارادہ تھا لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کے علاقوں میں جہاں درختوں کی لکڑی کو بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے وہاں ہم نے انرجی ایفشنٹ سٹوو فراہم کئے جس سے کھان پکانے کے ساتھ سردی سے بچاﺅ میں بھی مدد ملے گی اس سٹوو کی فراہمی پر فی چولہا سڑھے آٹھ سو روپے کا خرچ آیا ہے جس کے تحت 15 ہزار خاندانوں کو یہ سہولت دے چکے ہیں جنوبی پنجاب، اور بلوچستان کے پسماندہ علاقون کو بھی یہ سہولت فراہم کریں گے تا کہ درختوں کی کٹائی کے عمل سے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری پروگرام اور کٹے اور بچھے پالنے کے پروگراموں کے تحت بھی جنوبی پنجاب، بلوچستان کے دور افتادہ نصیر آباد، مکران، چاغی کے اضلاع میں بھی پروگرام لیکر جائیں گے جس سے ان علاقوں کے عوام کو فائدہ ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ خیبر پختونخوا کے اضلاع میں پاکستان بیت المال کے مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعضا کی فراہمی کے حوالے سے عطیہ دہندہ اداروں کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ نیشنل بنک آف پاکستان سے بھی کہا ہے کہ کریڈٹ کارڈ مین کوئی ایسا لنک فراہم کیا جائے تاکہ عطیہ دینے میں لوگوں کو آسانی ہو اور پاکستان بیت المال کے لئے فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ایک آگاہی مہم بھی شروع کریں گے تاکہ لوگ دل کھول کر عطیات پاکستان بیت المال کو دے سکیں۔ انہوںنے کہا کہ صدر ملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ دنوں آن لائن ویب کا اجراءکر دیا ہے ہماری کو شش ہو گی کہ ہسپتالوں کے مستحق مریض لمبی قطاروں اور طویل انتظار کی زحمت سے بچ سکیں اور وہ آن لائن درخواست دیں اور آن لائن ہی انہیں منظوری مل جائے فنڈز کی دستیابی کی صورت میں انہیں 7 سے 15 روز میں علاج معالجہ کے لئے اعانت فراہم کرنے کا بندو بست کیا جائے گا۔ معذور افراد کی فلاح وبہبود کے لئے عالمی ادارہ صحت کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی غور کیا جارہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 500 نوٹس تھے جنہیں نمٹا دیا گیا ہے ۔پاکستان بیت المال نے یتیم بچوں کی بہتر غذائیت ، صحت اور تعلیم کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام(کفالت یتمی)ٰ کے حوالے سے ہر ضلع سے 100 بیوہ مااﺅں کو رجسٹرڈ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت بیوہ ماں کو اپنے ایک بچے کی بہترین پرورش کے لئے 8 ہزار روپے اور 2 بچوں کی پرورش کے لئے 12 ہزار روپے سہ ماہی مہیا کئے جائیں گے۔ منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی نے بتایا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ایک اہم اورحساس معاملہ ہے۔ اس حوالے سے یتیم خانے کھولنے کا ایک رواج تھا لیکن موجودہ حکومت نے ایسے مراکز میں بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت اور بنیادی صحت اور غذائیت کے احساس کے مدنظر رکھتے ہوئے آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام کے ایک جامع پلان مرتب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتیم خانوں میں شائد اس طریقے سے بچوں کی دیکھ بھال نہ ہوتی ہو جتنی بہتر سہولیات انہیں اس پروگرام کے ذریعے دی جاسکتی ہیں۔ پاکستان بیت المال اس آرفن ڈونر پروگرام کے ذریعے ہر ضلع سے ایسی بیوہ خواتین کو رجسٹرڈ کرنے جارہے ہیں جو اپنے گھر میں اپنے بچوں کی بھرپور اور مناسب دیکھ بھال اور پرورش کریں اور پاکستان بیت المال انہیں ایک بچے کے لئے 8 ہزار اور دو بچوں کے لئے 12 ہزار رپوے سہ ماہی فراہم کرے گا اور بچوں کی بہتر دیکھ بھال کا جائزہ لینے کے لئے سہ ماہی امداد کے ساتھ بچے کی صحت اور تعلیم کی رپورٹ بھی حاصل کرے گا تاکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ اس مد میں دیئے جانے والے فنڈز کا استعمال بھی درست ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو کسی سیاسی اثر سے پاک کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو یہ ٹاسک دیاگیا ہے کہ وہ اپنے اپنے سرکلز سے ایسی بیوہ خواتین کی فہرست فراہم کرے۔ ایم ڈی بیت المال نے بتایاکہ آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام کے لئے پاکستان بیت المال نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں تاکہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلیٹی (سماجی ذمہ داریوں کے معاون) کے تحت آرفن ڈونر سپورٹ پروگرام میں حصہ ڈالنے کے لئے پاکستان بیت المال کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دیا جا سکے۔ عون عباس پبی نے کہاکہ پاکستان بیت المال ملک بھر میں مستحق افراد کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے علاوہ دیگر سماجی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔








