پاکستان خطہ کی ترقی کیلئے وسطی ایشیائی ریاستوں کی اقتصادی تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، مخدوم خسرو بختیار کا کاریک کے 19ویں وزارتی اجلاس سےورچوئل خطاب

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان خطہ کی ترقی کیلئے وسطی ایشیائی ریاستوں کی اقتصادی تنظیم (کاریک) کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، تنظیم کو آزادانہ تجارت کے علاقائی معاہدے پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں کاریک کے 19ویں وزارتی اجلاس میں ورچوئل شرکت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں 11 …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان خطہ کی ترقی کیلئے وسطی ایشیائی ریاستوں کی اقتصادی تنظیم (کاریک) کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، تنظیم کو آزادانہ تجارت کے علاقائی معاہدے پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں کاریک کے 19ویں وزارتی اجلاس میں ورچوئل شرکت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں 11 ممالک کے وزراءاور 6 ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مختصر پیغام میں وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ افغانستان کو خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ وزیراعظم کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ اور علاقائی تعاون و استحکام کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجلاس سے افغانستان، آذربائیجان، چین، جارجیا، قزاخستان، کرغزستان، پاکستان، منگولیا، تاجکستان اور ترکمانستان کے وزراءاور سینئر نمائندوں نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک، یو ایس ایڈ، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، عالمی تجارتی تنظیم، جاپان کی ایجنسی برائے بین الاقوامی تعاون جائیکا سمیت کئی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کاریک جیسی علاقائی تنظیموں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیمیں پائیدار ترقی اور اقتصادی بڑھوتری کے مشترکہ اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان نہ صرف سڑکوں کے نیٹ ورک بلکہ ریل، ہوا بازی اور بندرگاہوں کے ذریعے بھی رابطے بڑھانا چاہئیں، اس سے خطہ میں تجارت اور سیاحت کی استعداد کار سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کاریک کے فریم ورک کی تائید کی اور کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مخصوص قابل حصول اور متعلقہ اہداف کا تعین کرنا چاہئے، اس طرح کے اہداف کی سالانہ بنیادوں پر نگرانی بھی ممکن ہوتی ہے اور اس پر پیشرفت کے بارے میں بروقت آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ سیاحت موجودہ حکومت کی قومی ترقیاتی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے سیاحت کی علاقائی راہداری، کاریک بزنس کونسل کے قیام اور علاقائی ممالک کے نجی شعبوں کے مابین سیاحت کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے نجی شعبہ کو سہولیات دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے بعض شعبوں میں ”کاریک سٹیکر“ کی صورت میں ویزا سہولیاتی نظام کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ اس کے نتیجہ میں علاقائی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ کاریک کے ممالک سے تجارت میں اضافہ کیلئے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدوں کو فروغ دینا چاہئے، اس کے نتیجہ میں آزادانہ تجارت کے علاقائی معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے کاریک کی طویل المیعاد حکمت عملی کی تائید کی اور کہا کہ اس کے نتیجہ میں علاقائی سیاحت کو فروغ ملے گا اور صنعتی مساوات کے اہداف بھی حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کاریک کے خطہ کو اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہ خطہ اور اس میں شامل ممالک کے ساتھ تجارت اور رابطوں کو فروغ دینا پاکستان کی قومی ترجیحات، علاقائی رابطوں اور تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔