پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تدبر کی علامت بن کر ابھرا ہے، مہنگائی سے متاثرہ عوام کو بجٹ میں ریلیف دیں گے، رانا ثناء اللہ

پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تدبر کی علامت بن کر ابھرا ہے، مہنگائی سے متاثرہ عوام کو بجٹ میں ریلیف دیں گے، رانا ثناء اللہ

فیصل آباد۔ 27 مئی (اے پی پی):مشیر وزیراعظم برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ پاکستان موجودہ عالمی اور علاقائی کشیدگی کے دوران تدبر، ذمہ دار سفارتکاری اور قومی بصیرت کے ساتھ ایک مؤثر اور باوقار کردار ادا کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا پاکستان کو امن کے پاسدار، خطے میں استحکام کے ضامن اور عالم اسلام کی ایک مضبوط آواز کے طور پر دیکھ رہی ہے، حکومت مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے پرعزم ہے اور آنے والے بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نماز عیدالاضحی کی کے موقع پر فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ خاں نے پوری قوم اور عالم اسلام کو عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس مقدس دن کے صدقے پاکستان اور پوری مسلم امہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا کرے اور امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ اور کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ہیں تاہم خصوصاً اس خطے کے ممالک کو اس صورتحال سے سکیورٹی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، معیشت متاثر ہوئی اور عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اسی تناظر میں ایسا بجٹ لانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں مہنگائی سے متاثرہ طبقات کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ عام آدمی کو سہولت دینے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر خطے میں جنگی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو وفاقی حکومت اس سے بھی بڑا ریلیف پیکج دینے کی پوزیشن میں تھی، تاہم موجودہ حالات کے باوجود عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پہلے ہی عام آدمی کیلئے مختلف امدادی اور فلاحی پروگرام جاری ہیں جن کے مثبت اثرات عوام تک پہنچ رہے ہیں جبکہ وفاق بھی اسی جذبے کے ساتھ ریلیف اقدامات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور کشیدگی کے موجودہ ماحول میں پاکستان کی قیادت نے غیر معمولی تدبر، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی برادری پاکستان کو امن، مکالمے اور استحکام کی قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا جب پورا خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی قیادت، سیاسی بصیرت اور قومی حکمت عملی سے نہ صرف پاکستان کا عالمی مقام مستحکم کیا بلکہ عالم اسلام میں اتحاد پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اس نہج پر پہنچ رہے تھے جہاں مسلم امہ کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی تھی مگر پاکستان کی قیادت نے دانشمندی سے حالات کو بہتر سمت دینے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام نے جس عزم، حوصلے اور استقامت کے ساتھ جنگی حالات کا مقابلہ کیا وہ پوری مسلم امہ کیلئے باعث فخر ہے اور ان کے جذبے کو اسلامی دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ”سندور فیز ٹو“کے نام پر دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، تاہم پاکستان کی بہادر افواج اور سکیورٹی ادارے پوری قوت، جوانمردی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ان عناصر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جا رہا ہے اور ملک دشمن قوتوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے اور مسلم امہ پاکستان کی موجودگی میں خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، سفارتی توازن اور قومی وحدت نے ملک کو عالمی سطح پر ایک منفرد مقام دیا ہے۔

معاشی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت اقتصادی بحران اور مالی مشکلات سے دوچار ہے اور پاکستان بھی عالمی حالات کے اثرات سے مکمل طور پر الگ نہیں، تاہم اس کے باوجود حکومت نے مشکل فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو سنبھالا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹانے کا تجربہ کیا گیا جس کے بعد ملک کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دو سے تین سال کے عرصے میں پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالا، معیشت کو استحکام دیا اور مشکل حالات پر قابو پانے کیلئے مسلسل کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو عالمی مالیاتی فنڈ کے چنگل میں کس نے پہنچایا یہ سب جانتے ہیں، تاہم موجودہ حکومت بحران سے نکلنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے گی جس سے پاکستان میں بھی مہنگائی میں کمی ہوگی اور عوام کو مزید ریلیف ملے گا۔ دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغانستان میں موجود عناصر کارفرما ہیں جبکہ ان کے پس پردہ بھارت اور اسرائیل جیسے کردار بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چالیس برسوں سے افغان عوام کی میزبانی کی، انہیں سہارا دیا اور ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہا، اس لئے افغانستان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو تو پاکستان دہشت گردی پر سو فیصد قابو پا سکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک ہونے کے باوجود افغانستان دشمن قوتوں کے اثر میں نظر آ رہا ہے جو خطے کے امن کیلئے تشویش ناک ہے۔رانا ثناء اللہ نے عیدالاضحی کے موقع پر شہداء کے خاندانوں سے خصوصی اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید کی خوشیوں میں ہم اپنے ان بہادر سپوتوں کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے وطن کے امن، سلامتی اور بقاء کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور پاکستان ہمیشہ اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کا مقروض رہے گا۔