پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین معروف گلوکار و سماجی شخصیت ابرار الحق کا اے پی پی کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 19 جولائی (اے پی پی) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین معروف گلوکار و سماجی شخصیت ابرار الحق نے کہا ہے کہ انہوں نے 15 دن میں کورونا کے لئے مخصوص ہسپتال بنایا، چینی ڈاکٹرز کی مشاورت سے بنایا جانے والا ہسپتال ٹو پیسجز تھری زون فارمولا کے تحت بنایا گیا جس میں 120 بیڈ ہیں جن میں 15 وینٹیلیٹرز، 90 آکسیجن بیڈ ہیں، ہسپتال میں مریضوں …

اسلام آباد ۔ 19 جولائی (اے پی پی) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین معروف گلوکار و سماجی شخصیت ابرار الحق نے کہا ہے کہ انہوں نے 15 دن میں کورونا کے لئے مخصوص ہسپتال بنایا، چینی ڈاکٹرز کی مشاورت سے بنایا جانے والا ہسپتال ٹو پیسجز تھری زون فارمولا کے تحت بنایا گیا جس میں 120 بیڈ ہیں جن میں 15 وینٹیلیٹرز، 90 آکسیجن بیڈ ہیں، ہسپتال میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، جن کے گھر راشن نہیں ہے ان کو راشن بھی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ یہاں مریضوں کا نفسیاتی علا ج بھی کیا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اپنی وزراءکے ساتھ ہسپتال کا دورہ کیا اس کوشش کو بے حد سراہا۔ اے پی پی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں ابرار الحق نے بتایا کہ جب انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تو آرگنائزیشن کی سپورٹ کم ہو رہی تھی۔ اور 80 اضلاع سے کم ہو کر 40 تک رہ گئی تھی ، ہم دوبارہ اس کو 88 تک لے گئے ہیں۔ ہم نے صوبائی سطح پر سب کے تحفظات دور کئے۔گلوبل ٹرینڈز کے مطابق اپنی آرگنائزیشن کو ایک مرتبہ پھر فعال کیا۔ اس میں اصلاحات کیں۔ ملازمین کو اعتماد میں لیا، ان کی حوصلہ افزائی کی۔ فیصلہ سازی کے لئے مینجنگ بورڈ ہے لیکن ادارے کو مزید فعال بنانے کے لئے بورڈ آف ایڈوائزری تشکیل دیا جس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو شامل کیا۔ ابرار الحق نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پہ دو نئے شعبہ جات تشکیل دیئے جس میں ریسورس موبلائزیشن اور سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں۔ ریسورس موبلائزیشن کے ذریعہ دو ماہ میں 15 کروڑ روپے اکٹھے کئے ۔ محافظ ٹیم بنائی جس نے محافظ ایپ بنائی جس کے تحت 5 لاکھ لوگوں تک رسائی حاصل کی۔ جن میں بڑی تعداد میں لوگوں سے لے کر لوگوں میں کھانا تقسیم کیا گیا اور انہیں کورونا سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کی گئیں اور اس مہلک وباءسے بچاو کے لئے حفاظتی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے اعداد و شمار اکٹھے کئے گئے، ہاٹ سپاٹ ایریاز کی نشاہدہی کی گئی یہی وہ علاقے تھے جن کو بعد میں لاک ڈاون کرنا پڑا۔ ان علاقوں میں لوگوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی۔10 ہزار خاندانوں کو 48 ہزار فی خاندان دیا جائے گا جس کے پہلے فیز میں 2500 خاندانوں کو دے رہے ہیں۔ ان میں معزور افراد، مزدور، فنکار، پیرامیڈیکل سٹاف، صحافی اور ہوٹلوں اور شادی ہالز میں کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔2 لاکھ سے زائد این 95 ماسکس دئیے گئے۔15 ہزار افراد کو راشن فراہم کیا۔اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوااور بلوچستان میں ہینڈ واشنگ سٹیشنز قائم کئے۔اللہ تعالیٰ کی مدد سے یہ کام ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آگہی مہم کے ذریعہ خون کا عطیہ دینے والوں کی تعداد کو دوگناہ کیا۔