اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرطان کا عالمی دن 4 فروری کو منایا گیا جس کامقصد سرطان سے آگاہی اوراس سے بچاؤکے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں اس دن کی مناسبت سے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، مذاکرے، واکس اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ …
پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرطان کا عالمی دن آج منایا گیا
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرطان کا عالمی دن 4 فروری کو منایا گیا جس کامقصد سرطان سے آگاہی اوراس سے بچاؤکے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں اس دن کی مناسبت سے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، مذاکرے، واکس اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو 2030 تک کینسر سے متاثرہ افراد کی اموات کئی گنا تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر سرطان کی بر وقت تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ممکن ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں سرطان کی ابتدائی تشخیص کی شرح بہت کم ہے جس کی وجہ عوامی آگہی کافقدان ہے۔
سرطان کی ابتدائی علامات میں مستقل تھکن، وزن میں اچانک کمی، درد، بخار، ہاضمے کی مسلسل خرابی اور کھانسی وغیرہ شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کینسر کے پھیلاؤ میں 40 فیصد کمی ممکن ہے۔سرطان کے 40 فیصد مریض ایسی وجوہات کی بنا پر اس کا شکار ہو جاتے ہیں جن پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے اور تمباکو نوشی ایسی سب سے بڑی قابل تدارک وجہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور اس کے ذیلی ادارے’’بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق سرطان‘‘ (آئی اے آر سی) کے مطابق تمباکو نوشی، شراب نوشی، وزن میں زیادتی، جسمانی سرگرمی کی کمی، فضائی آلودگی، الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن اور سرطان کا باعث بننے والے 9 طرح کے انفیکشن وغیرہ کی بروقت تشخیص سے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2022 میں سرطان کے 37 فیصد نئے کیسز(تقریباً 71 لاکھ مریض) قابل تدارک عوامل سے منسلک تھے۔ نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ روک تھام کے ذریعے عالمی سطح پر اس مرض کے بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔185 ممالک میں 36 اقسام کے سرطان سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سرطان کی سب سے بڑی وجہ ہے اور دنیا بھر میں سرطان کے 15 فیصد نئے مریضوں کو اسی سبب بیماری لاحق ہوتی ہے، اس کے بعد انفیکشن (10 فیصد) اور شراب نوشی (3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔مردوں اور خواتین دونوں میں قابل تدارک سرطان کے مریضوں کی نصف تعداد پھیپھڑوں، معدے اور بچہ دانی کے منہ کے سرطان کا شکار ہوتی ہے۔
پھیپھڑوں کے سرطان کا زیادہ تر تعلق تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے ہے۔ معدے کا سرطان بڑی حد تک ہیلیکوبیکٹر پائلوری انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ بچہ دانی کے سرطان کی بنیادی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس(ایچ پی وی) ہے۔ڈبلیو ایچ او میں سرطان پر قابو پانےسے متعلق شعبے کے سربراہ اور اس تحقیق کے مصنف ڈاکٹر آندرے الباوی نے کہا ہے کہ یہ پہلی عالمگیر تحقیق ہے جو واضح کرتی ہے کہ سرطان کا کتنا خطرہ ایسے اسباب سے جڑا ہے جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ مختلف ممالک اور آبادیوں میں رجحانات کا جائزہ لے کر حکومتوں اور افراد کو زیادہ موثر معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں تاکہ سرطان کے بہت سے کیس ابتدا ہی میں روکے جا سکیں۔
تحقیق کے مطابق مردوں میں قابل تدارک سرطان کا پھیلاؤ خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مردوں میں سرطان کے 45 فیصد نئے کیس قابل تدارک پائے گئے جبکہ خواتین میں یہ شرح 30 فیصد رہی،مردوں میں تمباکو نوشی سرطان کے 23 فیصد نئے مریضوں کی وجہ بنی، اس کے بعد انفیکشن (9 فیصد) اور شراب نوشی (4 فیصد) کا نمبر ہے۔خواتین میں انفیکشن سرطان کی 11 فیصد، تمباکو نوشی 6 فیصد اور جسمانی وزن میں زیادتی 3 فیصد نئی مریضوں کا سبب تھی۔آئی اے آر سی میں سرطان کی نگرانی کے شعبے کی نائب سربراہ اور اس تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر آئزابیل سورج متراتام نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ دنیا بھر میں قابل تدارک سرطان کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے جس میں پہلی مرتبہ انفیکشن کو خطرات میں شامل کیا گیا ہے۔
ان وجوہات سے نمٹ کر عالمی سطح پر سرطان کے بوجھ کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق خواتین میں قابل تدارک سرطان کی شرح شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا میں 24 فیصد جبکہ ذیلی صحارا افریقہ میں 38 فیصد رہی۔مردوں میں سب سے زیادہ بوجھ مشرقی ایشیا میں (57 فیصد) دیکھا گیا جبکہ سب سے کم (28 فیصد) لاطینی امریکا اور غریب الہند میں رہا۔یہ فرق رویہ جاتی، ماحولیاتی، پیشہ وارانہ اور انفیکشن سے متعلق خطرات، سماجی و معاشی ترقی، روک تھام کی ملکی پالیسیوں اور صحت کے نظام کی صلاحیت میں فرق کی عکاسی کرتا ہے۔
سرطان کی روک تھام کے حوالہ سے عالمی ادارہ نے کہا ہے کہ ہر خطے کے مطابق روک تھام کی مخصوص حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے جس میں تمباکو نوشی پر موثر کنٹرول، شراب نوشی پر ضابطوں کا اطلاق، ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی جیسی بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن، بہتر فضائی معیار، کام کی محفوظ جگہیں اور صحت مند غذا و جسمانی سرگرمی کو فروغ دینا شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت، تعلیم، توانائی، نقل و حمل اور محنت سمیت مختلف شعبوں میں مربوط اقدامات کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو سرطان سے بچایا جا سکتا ہے۔ قابل تدارک خطرات سے نمٹ کر نہ صرف سرطان کے مریضوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ صحت پر طویل المدتی اخراجات گھٹانا اور مجموعی بہبود میں بہتری لانا بھی ممکن ہے۔









