پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے خالص منافع میں گزشتہ مالی سال کے دوران سالانہ بنیادوں پر 15.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے خالص منافع میں گزشتہ مالی سال کے دوران سالانہ بنیادوں پر 15.1 فیصد اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے خالص منافع میں گزشتہ مالی سال کے دوران سالانہ بنیادوں پر 15.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار اور حبیب ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں نے مجموعی طور پر ایک اعشاریہ 88 ٹریلین روپے کا خالص منافع حاصل کیا۔ رپورٹ کے مطابق بینکنگ، تیل و گیس کی تلاش، سیمنٹ، بجلی، آٹو، آئل مارکیٹنگ، فارما، فوڈ، کیمیکلز، ٹیکسٹائل اور ریفائنری کے شعبوں کی کمپنیوں نے نمایاں منافع کمایا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بینکوں کو مجموعی طور پر 363 ارب روپے کا خالص منافع حاصل ہوا، جو سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کا مجموعی خالص منافع 460 ارب روپے رہا، منافع میں اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔سیمنٹ ساز کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 183 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد زیادہ ہے۔بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا مجموعی خالص منافع 52 ارب روپے رہا، جس میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کھاد بنانے والی کمپنیوں کا منافع 144 ارب روپے رہا جبکہ آٹو سیکٹر کی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 81 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا۔
آٹو سیکٹر کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 37 فیصد اضافہ ہوا۔ٹیکسٹائل شعبے کی کمپنیوں کا مجموعی خالص منافع 18 ارب روپے رہا، جس میں سالانہ بنیادوں پر 126 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 17 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا جو سالانہ بنیادوں پر 63 فیصد زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مجموعی خالص منافع 17 ارب روپے رہا جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال کے دوران اس شعبے کی کمپنیوں نے 6 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تھا۔اسی طرح ریفائنریوں کا مجموعی خالص منافع 22 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جس میں سالانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ ہوا۔







