پاکستان سٹیزن پورٹل عوامی شراکتی گورننس کے لئے ایک نظام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے

سلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):پاکستان سٹیزن پورٹل عوامی شراکتی گورننس کے لئے ایک نظام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو ایک طرف لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ کی ایک ملک گیر ونڈو فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف انتظامی کارکردگی کا کلچر وضع کرتی ہے اور اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں پر جواب دہ بناتی ہے۔ اکتوبر 2018ءکے بعد سے …

سلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):پاکستان سٹیزن پورٹل عوامی شراکتی گورننس کے لئے ایک نظام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو ایک طرف لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ کی ایک ملک گیر ونڈو فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف انتظامی کارکردگی کا کلچر وضع کرتی ہے اور اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں پر جواب دہ بناتی ہے۔ اکتوبر 2018ءکے بعد سے پاکستان سٹیزن پورٹل ملک بھر میں بڑی تعداد میں شہریوں کو سرکاری اداروں کے ساتھ کامیابی سے رابطہ فراہم کر رہی ہے جو گورننس اور سروس ڈیلیوری کے ایشوز کو اجاگر کرنے کے لئے بھی ایک فعال ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اس پورٹل نظام سے پالیسی سازوں کو پالیسی میں فرق کی نشاندہی اور سروس کی فراہمی کے سلسلے میں نقائص کی نشاندہی کا بھی موقع ملے گا۔ ابتدائی طور پر شکایات کا اندراج سمارٹ فونز اور ویب سائیٹ کے ذریعے پاکستان سٹیزن پورٹل پر ممکن تھا جس میں 24 وفاقی اداروں کے ذریعے کھلی کچہریوں کے انعقاد سے شہریوں کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ سسٹم کے اجراءسے قبل وزیراعظم نے 16 اکتوبر 2018ءکو ایک بریفنگ کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ معاشرے کے تمام طبقات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے دستیاب تمام وسائل استعمال میں لائے جائیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کی ویب رسائی یا سمارٹ فونز کے علاوہ ایسے افراد کی بھی داد رسی کی جائے جن کے پاس سمارٹ فون یا انٹرنیٹ نہیں ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے ایسے افسران کو جن کے پاس پاکستان سٹیزن پورٹل کے ڈیش بورڈ ہیں، وہ شکایات کے جائزہ کے علاوہ مینوئل طریقے سے اپنے متعلقہ علاقے کے لوگوں کی شکایات کے اندراج کی سہولت اپنے متعلقہ ڈیش بورڈ سے فراہم کریں گے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل ڈیش بورڈ سے شکایات کے مینوئل طریقے سے اندراج ایس او پیز کے مطابق ہوگا۔ پی ایم ڈی یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ لوگوں کی سہولت کے لئے تمام فوکل پرسنز کے لئے بریفنگ کا انعقاد کیا جائے۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور دیگر نجی میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے آگاہی مہم بھی شروع کی جائے۔