ماسکو۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان 'شنگھائی روح' اور اس کے عظیم مقاصد جو جیوپولیٹیکل اور جیو اکنامک شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کے سامنے ہماری اجتماعی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں کے لئے پرعزم ہے، پاکستان کا جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونا اسے یوریشین خطے کے لیے ایک مثالی تجارتی راہداری بناتا …
پاکستان ‘شنگھائی روح’ اور اس کے عظیم مقاصد کے لیے پرعزم ہے، خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار

مزید خبریں
ماسکو۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ‘شنگھائی روح’ اور اس کے عظیم مقاصد جو جیوپولیٹیکل اور جیو اکنامک شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کے سامنے ہماری اجتماعی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں کے لئے پرعزم ہے، پاکستان کا جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونا اسے یوریشین خطے کے لیے ایک مثالی تجارتی راہداری بناتا ہے، خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانا ہمارے خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، پاکستان اب بھی پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جو پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے امن کے لئے ناگزیر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ میٹنگ کے دوران دیئے گئے بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے خوبصورت شہر میں ہونا اور روسی فیڈریشن کے وزیر اعظم مشوسٹن کی میزبانی میں ہونا میرے لیے انتہائی مسرت کی بات ہے۔ انہوں نے روس کی گرمجوش، فراخدلی اور روایتی مہمان نوازی اور ایس سی او کے اجلاس کے لیے بہترین انتظامات پر روسی قیادت کے ساتھ اظہار تشکر کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ‘شنگھائی روح’ اور اس کے عظیم اصولوں کے لیے پرعزم ہے جو جیوپولیٹیکل اور جیو اکنامک میدانوں میں بڑی تبدیلیوں کے سامنے ہماری اجتماعی کوششوں کو سہارا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا گزشتہ سال اسلام آباد شنگھائی تعاون کے سربراہان حکومت (سی ایچ جی) اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ معاشی تعاون شنگھائی تعاون کی سرگرمیوں کا محور ہے۔ پاکستان کی سی ایچ جی کی سربراہی میں منسلکی، ٹرانسپورٹ روابط، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے شعبوں کو اقتصادی تعاون کی ترجیح قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی انفراسٹرکچر خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، اقتصادی انضمام کو آگے بڑھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونا اسے یوریشین خطے کے لیے ایک مثالی تجارتی راہداری بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی روابط کے لیے کثیر الجہت فورس ہے جو نہ صرف پاکستان کو چین سے جوڑ کر بلکہ تمام ایس سی او ممالک کو علاقائی اقتصادی انضمام میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دو ماہ قبل تیانجن میں چینی قیادت کی متحرک صدارت میں ہم نے سائنس، ٹیکنالوجی، جدت، مصنوعی ذہانت، تجارت، سیاحت، ثقافت اور سلامتی کے مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشی ایٹو (جی جی آئی) کا خیرمقدم کرتے ہیں اور توانائی، سبز صنعت، ڈیجیٹل معیشت، سائنسی و تکنیکی جدت، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ و تکنیکی تعلیم میں چھ تعاون پلیٹ فارمز کے آغاز کو سراہتے ہیں۔
بہت سے دیگر اقدامات کی طرح یہ بھی صدر شی جن پنگ کی صدارت میں شاندار اقدامات ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او بزنس کونسل اور ایس سی او انٹر بینک ایسوسی ایشن ایس سی او رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، ہمیں باہمی تصفیہ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ایس سی او ڈویلپمنٹ فنڈ اور انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ ایسے آلات اور اقدامات ایس سی او خطے کو بین الاقوامی مالیاتی خطرات کا ازالہ کرنے اور ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے مختلف مراحل کے باوجود، تمام ایس سی او رکن ممالک اب بھی غربت اور فوڈ سکیورٹی سے متعلق چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔ ہم مشترکہ کوششوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ کر ان چیلنجز پر قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان نے مستقل چیئرمین کے طور پر "ایس سی او کے غربت کے خاتمے پر خصوصی ورکنگ گروپ” کے دوسرے اجلاس کی کامیابی سے میزبانی کی ہے۔ اس کا محور "موسمیاتی لچکدار سماجی تحفظ کے نظام کی تعمیر: ایس سی او خطے میں موسمیاتی جھٹکوں سے کمزور گروہوں کا تحفظ” تھا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانا ہمارے خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان اب بھی پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہشمند ہے، جو پاکستان اور اسکے ہمسایہ ممالک کے امن کے لئے ناگزیر ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم مکالمہ، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین پر اپنے غیر متزلزل یقین کا اعادہ کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعات اور اختلافات کو خوش اسلوبی سے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی متفقہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ تصادم، جبر یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے۔
اس پس منظر میں، جامع اور منظم مکالمے کا آغاز جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے طویل عرصے سے متاثر تمام مسائل کو بامعنی طور پر حل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سیکرٹری جنرل نورلان یرمیک بایف اور ڈائریکٹر (سی سی آر اے ٹی ایس) اولربیک شارشیئیف کو ہمارے مشترکہ مقاصد کے حصول میں ان کی ماہر رہنمائی پر مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایس سی او کی طاقت ہماری مشترکہ تاریخ میں ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس مشترکہ مستقبل میں جو ہم تعمیر کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستان اس مستقبل کا فعال معمار بننے کے لیے تیار ہے، آئیے اپنے عوام کے لیے ان ٹھوس معاشی رابطوں کے لیے مل کر کام کریں ۔








