پاکستان فعال اقتصادی سفارتکاری کیلئے پُرعزم ہے ،برکس کے فریم ورک میں تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں، پیداواری معاشی سرگرمی سے منسلک فنانسنگ پاکستان کی ترجیح ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا بین الاقوامی میڈیا کوانٹرویو

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ تیزی سے بدلتے اور پیچیدہ عالمی معاشی منظرنامہ میں مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے پاکستان فعال اقتصادی سفارتکاری کےلئے پُرعزم ہے، پاکستان برکس کے فریم ورک میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے، پیداواری معاشی سرگرمی سے منسلک فنانسنگ پاکستان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار آذربائیجان کے معروف خبر رساں ادارہ رپورٹ انفارمیشن ایجنسی …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ تیزی سے بدلتے اور پیچیدہ عالمی معاشی منظرنامہ میں مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے پاکستان فعال اقتصادی سفارتکاری کےلئے پُرعزم ہے، پاکستان برکس کے فریم ورک میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے، پیداواری معاشی سرگرمی سے منسلک فنانسنگ پاکستان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار آذربائیجان کے معروف خبر رساں ادارہ رپورٹ انفارمیشن ایجنسی اور روسی خبررساں ایجنسی ریانووستی کو دیئے گئے دو علیحدہ انٹرویوز میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کو گہراکرنے، تجارت اور رابطہ کاری کے راستوں میں تنوع لانے، پائیدارو سرمایہ کاری پر مبنی نموکے فروغ اور ملک کو قابلِ اعتماد، مسابقتی اور مستقبل شناس شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کیلئے پاکستان فعال اقتصادی سفارتکاری کے لئے پُرعزم ہے تاکہ تیزی سے بدلتے اور پیچیدہ عالمی معاشی منظرنامہ میں مؤثر کردار اداکیا جاسکے۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی ترجیحات، سرمایہ کاری کے امکانات اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پر روشنی ڈالی اور کلی معیشت کے استحکام، تجارت کے فروغ اور پائیدارو سرمایہ کاری پر مبنی نمو کے حوالہ سے حکومتی ترجیحات اوراقدامات پر روشنی ڈالی۔رپورٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ اور مضبوط بین الحکومتی تعلقات اب ٹھوس معاشی نتائج میں ڈھل رہے ہیں، جہاں تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کو اہمیت مل رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ آذربائیجان نے پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی خواہش کا عوامی طور پر اظہار کیا ہے جس میں توانائی، تیل و گیس، اور معدنیات و کان کنی کو تعاون کے کلیدی ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد منصوبوں پر بات چیت جاری ہے جن میں سوکار کی جانب سے ممکنہ آئل پائپ لائن میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے، یہ سرگرمیاں پاکستان پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ کہ آذربائیجان کی جانب سے کسی بھی مالی معاونت یا قرض کے انتظامات کو امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لئے ترتیب دیا جائے گا کیونکہ پیداواری معاشی سرگرمی سے منسلک فنانسنگ پاکستان کی ترجیح ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس نوعیت کی فنانسنگ کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں جن میں مرکزی بینک کے ساتھ رقوم کی تعیناتی یا منصوبہ جاتی بنیادوں پر فنانسنگ شامل ہو سکتی ہے تاکہ آذربائیجان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل خدمات، ٹیکنالوجی پر مبنی سروس سینٹرز، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں آذربائیجان کی پیش رفت سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بتدریج ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ادائیگی کے جدید نظام اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے عالمی تجارتی نظام میں دباؤ کے تناظر میں جنوب جنوب تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی نشاندہی کی۔ انہوں نے پاکستان، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے درمیان نئے تجارتی اور نقل و حمل کے راہداریوں کی ترقی کی صلاحیت واستعداد پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ دو طرفہ تجارتی حجم دونوں معیشتوں کی اصل صلاحیت کے مقابلہ میں کم ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تجارتی و سرمایہ کاری ایجنڈے کی معاونت کے لئے ضمانتوں، برآمدی کریڈٹ مکینزم، بینکاری روابط اور اسلامی مالیاتی آلات جیسے مالیاتی ذرائع کو فروغ دینا نہایت اہم ہے۔ ریانووستی کو انٹرویو میں سینیٹر اورنگزیب نے برکس تنظیم میں شمولیت کے لئے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم کا فعال رکن ہے اور برکس کے فریم ورک میں بھی تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے سرحد پار ادائیگی کے متبادل نظاموں پر جاری عالمی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے برکس کے ساتھ پاکستان کی شمولیت آگے بڑھے گی، پاکستان ان طریقہ ہائے کار کو بھی تلاش کرے گا۔ سرمایہ کاری کیلئے سہولت کاری کے حوالہ سے وزیر خزانہ نے کہا کہ کلی معیشت کے ستحکام کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد براہ راست کرنسی کے استحکام، منافع کی واپسی اور مجموعی معاشی یقین دہانی سے جڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بتدریج بہتر ہو رہے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائرتقریباً تین ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہے یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لئے بنیادی ہائی جین ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے خطرات کو کم کرنے کے لیے خودمختار ضمانتیں اور برآمدی کریڈٹ ایجنسیوں کی معاونت کو منصوبہ بہ منصوبہ بنیاد پر زیر غور لایا جا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل اثاثوں کاذکرکرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ سٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کا جائزہ لے رہا ہے کیونکہ پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کرپٹو کرنسی سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد اس شعبے کو ایک منظم اور ضابطہ شدہ فریم ورک میں لانا ہے، جس کے لیے ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی جا رہی ہے، سرمائے کے بہاؤ، تعمیل اور اینٹی منی لانڈرنگ کے معیارات سے متعلق خطرات کا محتاط انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کی معیشت کے لیے انقلابی صلاحیت کے طورپر مصنوعی ذہانت کی اہمیت پربھی روشنی ڈالی اورکہاکہ خصوصاً زراعت، مالیات، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت سے بھرپوراستفادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسرز مصنوعی ذہانت کو اپنانے سے نمایاں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں جس سے پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے عوامی مالیات اور بجٹ سازی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے حوالے سے روس کے تجربے سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں انسانی نگرانی کی اہمیت برقرار رہے گی۔

علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران مستحکم تجارتی بہاؤ کی حمایت کے لئے تجارتی راہداریوں کی ترقی، بشمول بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور، کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی، تیل و گیس، معدنیات، کان کنی اور صنعتی تعاون، بشمول ممکنہ اسٹیل پلانٹ کے قیام کو پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا، اور کہا کہ ان امور پر وزارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔