پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے،صدرمملکت آصف علی زرداری

اسلام آباد۔ یکم فروری (اے پی پی):صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے، ہمارا ملک مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال معاشرہ ہے، ہمارا آئین تمام شہریوں کو ’مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی …

اسلام آباد۔ یکم فروری (اے پی پی):صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے، ہمارا ملک مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال معاشرہ ہے، ہمارا آئین تمام شہریوں کو ’مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

ہفتہ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی، جو یکم تا 7 فروری 2026 منایا جا رہا ہے، کے موقع پر میں پاکستان کے عوام اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ موقع ہمیں اُن مشترکہ اقدار کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں امن، ہمدردی، باہمی احترام اور بقائے باہمی شامل ہیں اور جو تمام مذاہب اور نظامِ عقائد کی اساس ہیں۔صدر زرداری نے کہا ہے پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جو مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال ہے۔

ہمارا آئین تمام شہریوں کو، مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ اصول بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے رواداری، اتحاد اور ہم آہنگی کو پاکستانی قوم کی بنیاد قرار دیا۔ عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی، ہمیں ان اعلیٰ اقدار سے اپنی اجتماعی وابستگی کی تجدید کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔بین المذاہب تفہیم کا براہِ راست تعلق عام شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جہاں ہم آہنگی ہوتی ہے وہاں بچے بلا خوف اسکول جاتے ہیں، عبادت گاہیں محفوظ اور کھلی رہتی ہیں، محلّے اعتماد کے ساتھ ہنستے بستے ہیں اور روزگار باوقار انداز میں ملتا اور برقرار رکھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، عدم برداشت اور تقسیم سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہے، مقامی معیشتوں پر منفی دباؤ ڈالتی ہے اور اُس احساسِ تحفظ کو کمزور کرتی ہے جس پر خاندان انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا مذاہب کے درمیان احترام اور مکالمے کا فروغ کوئی مجرد اصول نہیں بلکہ سماجی استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔تنازعات،تقسیم اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے اس دور میں بین المذاہب رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین بامعنی روابط، تعلیم اور مکالمہ تعصبات اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ناگزیر ہیں۔

صدر زرداری نے کہا اخلاقی اہمیت کے ساتھ ساتھ، بین المذاہب ہم آہنگی سماجی یکجہتی، پائیدار امن اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اسلام، دیگر عظیم مذاہب کی طرح، عدل، پُرامن تعاون اور انسانی وقار کے احترام کا درس دیتا ہے۔ شفقت، مہربانی اور رواداری جیسی اقدار تمام مذہبی روایات میں مشترک ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری مشترکہ انسانیت ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہوئے اور باہمی تفہیم کو فروغ دے کر ہم اپنے معاشروں میں اعتماد اور یکجہتی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا میں اُن مذہبی رہنماؤں، علما، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جو برادریوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات، احترام کے فروغ، نفرت کے سدباب اور آئندہ نسلوں کی رہنمائی میں نہایت اہم ہیں تاکہ وہ تنوع کو طاقت کے سرچشمے کے طور پر دیکھ سکیں۔

ہم بین المذاہب ہم آہنگی کی اقدار کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری اور ایک پُرامن دنیا کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کریں۔ دعا ہے کہ یہ ہفتہ ہمیں بامعنی عمل، باخبر مکالمے اور باہمی احترام کی طرف مائل کرے۔پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔