اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے امریکہ کی قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی وسطی ایشیائی امور شیلی سیور نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی امور پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخی …
پاکستان قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے امریکہ کی قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی وسطی ایشیائی امور شیلی سیور نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی امور پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں اور پاکستان قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے۔
انہوں نے سائنسی، تکنیکی اور تعلیمی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔احسن اقبال نے کہاکہ سائنسی اور تعلیمی اشتراک کو فروغ دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، فل برائٹ پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ امریکہ کی معیاری جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو انسانی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل ملک کا ’’بنیادی سافٹ ویئر‘‘ہیں جو انفراسٹرکچر کو فعال اور موثر بناتے ہیں ،معیاری یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی نظام ہی ممالک کو سپر پاور بناتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت مسلسل آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے جس سے پاکستان کے معاشی اور زرعی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، پاکستان عالمی قوانین اور معاہدات کی روشنی میں اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔
احسن اقبال نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت کے ہدف کی جانب بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت تعلیمی شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ نالج کاریڈور کے ذریعے آئندہ دس برسوں میں 10,000 معیاری پی ایچ ڈی سکالرز تیار کرنے کا ہدف مقرر ہے جو مستقبل کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔








