لاہور۔5 جولائی(اے پی پی )پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنا انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے پانی کی قلت سے نمٹنے ، کم آمدنی والے طبقات کےلئے اپنی چھت ،روزگار کی فراہمی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مزید بہتری ،سی پیک سے استفادہ کرنے ،عدالتی نظام میں اصلاحات ،جمہوریت کی مضبوطی کےلئے آئینی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے اورآئینی ترمیم سے گڈ گورننس و نگرانی بہتر کرنے کےلئے پارلیمنٹ …
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنا انتخابی منشور پیش کردیا

مزید خبریں
لاہور۔5 جولائی(اے پی پی )پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنا انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے پانی کی قلت سے نمٹنے ، کم آمدنی والے طبقات کےلئے اپنی چھت ،روزگار کی فراہمی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مزید بہتری ،سی پیک سے استفادہ کرنے ،عدالتی نظام میں اصلاحات ،جمہوریت کی مضبوطی کےلئے آئینی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے اورآئینی ترمیم سے گڈ گورننس و نگرانی بہتر کرنے کےلئے پارلیمنٹ کی مضبوطی سمیت دیگر شعبوںمیں بہتری کی منصوبہ بندی اور ترجیحات کا اعلان کر دیا، مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم صرف وعدے کرنے کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ بات کریں گے جس پر عمل کر سکیں،اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو حکومت میں آنے کے بعد اولین ترین ترجیح دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر ہو گی اور اس کےلئے اگر چندہ بھی مانگنا پڑا تو دریغ نہیں کریں گے ،دھرنوں اور لاک ڈاﺅن کے باوجود بجلی کے اندھیرے دور ہونا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک معجزہ ہے ، ۔انتخابی منشور 2018ءپیش کرنے کی تقریب مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاﺅن میں منعقد ہوئی ۔اس موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، حمزہ شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق ، احسن اقبال، مشاہد حسین سید، مشاہد اللہ خان، مریم اورنگزیب ، مصدق ملک، عائشہ غوث پاشا ، سینیٹر سلیم ضیاء، بلیغ الرحمن سمیت ملک بھر سے پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر صحافی بھی موجود تھے ۔مسلم لیگ (ن) کے صد رمحمد شہباز شریف نے کہا کہ2013ءکے انتخاہی معرکے میں تمام سیاسی جماعتوںنے اپنا اپنا منشور پیش کیا لیکن جب 2018ءمیں دیکھا گیا تو اس میں سوائے بڑے بڑے بیانات کے کچھ نہیں تھا اور یہ منشو رعمل سے خالی تھی ۔مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے بڑی عاجزی اور اعتماد کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے 2013ءمیں جو بڑے بڑے چیلنجز او ر گھمبیر مسائل تھے ان کا مقابلہ کیا ۔ لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی بہت بڑا مسئلہ تھا جس نے پاکستان کی معیشت اور امن کو تباہ کر دیا تھا ۔ ہماری حکومت آنے سے پہلے عوام لوڈ شیڈنگ پر سراپا احتجاج تھے کراچی سے پشاور تک ٹائر جلائے جاتے تھے اور لوگ واپڈا کے دفاتر پر پتھراﺅ کرتے تھے ،لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی جس کی وجہ سے بیروزگاری پھیل ہوئی تھی ،ایکسپورٹ تباہ حال تھی زراعت پیلی پڑ گئی تھی اور صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہو گای تھا ،اگر آج اس کو ذہن میں لائیں تو خوف طاری ہو جاتا ہے ۔








