پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں محمد زبیر، دانیال عزیز کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔07 نومبر (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں محمد زبیر، دانیال عزیز اور بیرسٹر محسن رانجھا نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بچوں نے جو جواب جمع کرائے ہیں اس جواب اور ان کا پہلے دن سے جو موقف رہا اس میں کوئی فرق نہیں، عمران خان 7 ماہ تک ثبوتوں کا شور مچاتے رہے اور اب ان کے وکلاءنے عدالت عظمیٰ میں موقف اختیار …

اسلام آباد ۔07 نومبر (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں محمد زبیر، دانیال عزیز اور بیرسٹر محسن رانجھا نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بچوں نے جو جواب جمع کرائے ہیں اس جواب اور ان کا پہلے دن سے جو موقف رہا اس میں کوئی فرق نہیں، عمران خان 7 ماہ تک ثبوتوں کا شور مچاتے رہے اور اب ان کے وکلاءنے عدالت عظمیٰ میں موقف اختیار کیا ہے کہ ہمارے پاس دستاویزات اور ثبوت نہیں، اب احتساب ہو کر رہے گا، عمران خان اور ان کے ساتھی بھاگیں گے لیکن ہم بھاگنے نہیں دینگے، عمران خان نے پہلے دھاندلی کے جھوٹے الزامات لگا کر دھرنا دیا اور اب بدعنوانی کے بے بنیاد الزام لیکر اسلام آباد لاک ڈاﺅن کرنے چلے تھے، تحریک انصاف جہانگیر ترین کے زیر کفالت ہے، عمران خان اور جہانگیر ترین کے زیر کفالت کون ہے اب ان سب کے جواب انہیں دینا پڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیر مملکت محمد زبیر نے کہا کہ عمران خان کو قوم کو بتانا چاہئے کہ 2 نومبر سے قبل جو پانامہ کے حوالے سے ان کا موقف تھا وہ عدالت عظمیٰ میں جانے کے بعد تبدیل کیوں ہو گیا وہ ثبوت اور الزامات کہاں گئے جن کا واویلا کرکے وہ قوم کو گمراہ کر رہے تھے۔ تحریک انصاف کے وکلاءنے عدالت کے روبرو پٹیشن میں صاف کہہ دیا کہ ہمارے پاس ثبوت نہیں جو میڈیا ان کے الزامات کی مہم چلا رہا تھا کم از کم وہ ان کی پٹیشن ہی عوام کو دکھا دے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم عدالت آئے اس لئے ہیں کہ یہ جان سکیں حقائق کیا ہیں ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ اس سے پہلے عام انتخابات کے وقت یہ کہتے رہے کہ جو ٹرافی مجھے ملنے والی تھی وہ سازش کے تحت آخری وقت میں نوازشریف کو دیدی گئی۔ دراصل عمران خان کے مشیر انہیں غلط مشورے دیتے رہے اور جھوٹ بھی اس قدر بولے کے لوگوں کو سچ لگنے لگا کیونکہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ان کی عادت بن چکی ہے۔

Leave a Reply