وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اس شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے
پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، حکومت تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اس شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے، حکومت انسانی وسائل کی ترقی، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور وظائف کے ذریعے اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مختلف اداروں، محکموں اور اقدامات کی تفصیلات مرتب کر رکھی ہیں جو تحریری طور پر ایوان میں دستیاب ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے ایوان کا وقت بچانے کے لیے تحریری جواب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بڑے پیمانے پر انسانی وسائل کی ترقی کے لیے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت کام کر رہی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کے ذریعے تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دیگر پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وظائف سے متعلق تفصیلات اور ان کی درست تعداد بھی سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کو فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئی ایجاد اور ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ بعض نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ معمولی ادویات کے بھی مضر اثرات ہو سکتے ہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے فوائد سے استفادہ نہ کیا جائے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب دنیا بھر میں استعمال ہو رہی ہے اور مختلف شعبوں میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں بعض شعبوں میں انسانی کردار کم ہو سکتا ہے تاہم پاکستان عالمی ترقی کے اس عمل سے الگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے موبائل فون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد اور سہولیات ہیں، تاہم اس کے بعض منفی اثرات بھی ہیں جن پر معاشرے میں مسلسل بحث ہوتی رہتی ہے۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید بہتر اقدامات کرے گی تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور اس کے ممکنہ منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی مناسب کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔






