اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے جمعہ کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ نجی میڈیکل کالجوں کے لیے کم از کم معیاری فیس 18 لاکھ روپے مقرر کرنے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جبکہ اس سے زیادہ فیس لینے والے اداروں کو باقاعدہ جواز پیش کرنا ہوگا۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر روبینہ قائم خانی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے …
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو نجی میڈیکل کالجوں کی فیس براہِ راست کم کرنے کا اختیار حاصل نہیں،وزیر مملکت برائے قومی صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے جمعہ کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ نجی میڈیکل کالجوں کے لیے کم از کم معیاری فیس 18 لاکھ روپے مقرر کرنے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جبکہ اس سے زیادہ فیس لینے والے اداروں کو باقاعدہ جواز پیش کرنا ہوگا۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر روبینہ قائم خانی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2023 کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو نجی میڈیکل کالجوں کی فیس براہِ راست کم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ تاہم حکومت نے طلبہ اور والدین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کے لیے مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو وفاقی سطح پر اٹھایا گیا اور نائب وزیر اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی میڈیکل کالجوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ تفصیلی مشاورت کے بعد تمام فریقین نے اتفاق کیا کہ 18 لاکھ روپے کم از کم معیار کی فیس کے طور پر مقرر ہوں گے۔مختار احمد نے کہا کہ یہ بھی طے پایا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج اگر 18 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کرنا چاہے تو اسے پی ایم ڈی سی کو واضح جواز فراہم کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہسپتال کی سہولیات، کم از کم معیارات کی تکمیل، مریضوں کی آمد، اور مجموعی تعلیمی معیار جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس اتفاق کے باوجود بعض نجی میڈیکل کالج اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت پی ایم ڈی سی کو فیس کے تعین کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے بعد ازاں اس معاملے پر حکمِ امتناع جاری کر دیا۔وزیر مملکت نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے بعد کئی نجی میڈیکل کالجوں نے طے شدہ فریم ورک کو قبول کرتے ہوئے فیس 18 لاکھ روپے تک کم کر دی، تاہم ملک بھر میں متعدد اداروں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ضمنی سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آغا خان میڈیکل کالج جیسے اداروں کے معاملات کو ماضی کے عدالتی فیصلوں کے تناظر میں علیحدہ طریقے سے دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اداروں میں بھی اگر فیس 18 لاکھ روپے سے زیادہ ہوگی تو اس کا جواز دینا ہوگا۔انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میڈیکل تعلیم کو معیاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے قابلِ برداشت اور شفاف بنایا جائے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے بتایا کہ پمز اور پولی کلینک میں او پی ڈی خدمات دو شفٹوں میں جاری ہیں۔ صبح کی او پی ڈی دوپہر دو بجے تک چلتی ہے، جس کے بعد شام کی شفٹ شروع ہو کر رات آٹھ بجے تک جاری رہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ معمول کے لیبارٹری ٹیسٹ کی صورت میں کیے جاتے ہیں، جن میں سے بیشتر کے نتائج اسی روز جاری کر دیے جاتے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ہنگامی ٹیسٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوری فراہم کیا جاتا ہے۔








