پاکستان میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا، وزارت انسانی حقوق سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے متعدد تقاریب کا انعقاد

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا عالمی دن جمعرات کو منایا گیا، اس حوالے سے وزارت انسانی حقوق سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے متعدد تقاریب کا انعقاد ہوا۔ انسانی حقوق کا عالمی دن اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی سطح پر انسانی وقار برقرار رکھنے اور لوگوں میں انسانوں کے حقوق کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا عالمی دن جمعرات کو منایا گیا، اس حوالے سے وزارت انسانی حقوق سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے متعدد تقاریب کا انعقاد ہوا۔ انسانی حقوق کا عالمی دن اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی سطح پر انسانی وقار برقرار رکھنے اور لوگوں میں انسانوں کے حقوق کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 10 دسمبر کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد انسانوں کے حقوق کو بلاتفریق رنگ و نسل، مذہب اور زبان تسلیم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام، عوام میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا اور خصوصاً خواتین اور بچوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ 1945ءمیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد امن، ترقی اور انسانی حقوق پر رکھی گئی۔ اس چارٹر کی روشنی میں 10 دسمبر 1948ءکو اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر انسانی حقوق کا اعلامیہ منظور کیا۔ پاکستان دنیا کے ان اڑتالیس ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 10 دسمبر 1948ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن کی حمایت میں ووٹ دیا۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق تمام انسان حقوق اور وقار کے اعتبار سے آزاد اور برابر ہیں۔ انسانی حقوق پر رنگ، نسل، زبان، صنف مذہب و عقیدہ، سیاسی نظریہ، خاندانی حیثیت اور قوم کی بنا پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے منشور میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ کچھ ایسے انسانی حقوق ہیں جو کبھی چھینے نہیں جا سکتے جن میں انسانی وقار بھی شامل ہے۔ اس دن کی مناسبت سے وزارت انسانی حقوق اور یو این وومن کے اشتراک سے شہید بے نظیر بھٹو کرائسز سینٹر اسلام آباد میں انسانی حقوق کے عالمی دن اور پاکستان میں صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمیوں کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر وینڈی گلمور ، پاکستان میں آسٹریلیا کی ڈپٹی ہائی کمشنر جوان فریڈرکسن اور یو این وومن پاکستان کی کنٹری ریپریزنٹیٹو شرمیلا رسول نے خطاب کیا۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کی تمام بڑی پارلیمان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہیومن رائٹس کے عالمی ڈیکلریشن کو تسلیم کرتے ہیں لیکن آج بھارت کے غیر قانونی تسلط میں جموں و کشمیر میں اس ڈیکلریشن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے، بچوں اور خواتین کے تحفظ اور مظلوم طبقہ کے حقوق کے لئے کام کیا، بچوں اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے کئی نئے قوانین بنے، جبری گمشدگی اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تیاری کے مراحل میں ہیں، لوگوں میں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انہیں زندگی گذارنے کے لئے ایک ضابطہ حیات دیا، اﷲ تعالیٰ کے بنائے ضابطہ حیات میں انسانی حقوق سرفہرست ہیں۔ تمام مذاہب کے مباحثہ کا محور حرمت انسانی ہے، نبیﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع حقوق العباد اور ضابطہ حیات کا بنیادی جزو ہے جس نے آقا اور غلام کے فرق کو مٹایا۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے معروف دانشور اور ماہر تعلیم ہاشم خان نے کہا کہ بھارتی مظالم سب کے سامنے عیاں ہیں لیکن افسوس کہ ان مظالم پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ بعض ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دوہرا معیار اپناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان و مشیر اطلاعات و ثقافت ندیم قریشی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عالمی برادری کوبھارت کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ جنوری 1989ءسے اب تک بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 95 ہزار 728 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7155 کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان شہادتوں کے نتیجے میں 22 ہزار9 سو 24 خواتین بیوہ جبکہ ایک لاکھ 7 ہزار 8 سو 11بچے یتیم ہوئے۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن عالمی برادری سے سوال کرتا ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش کیوں ہے؟ انہوں نے اس شعر سے کشمیر میں ظلم وبربریت پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا کہ ”ظلم کی داستان سنا رہی ہے میت ایک ایک شہید کی، اس پر نظر کیوں نہیں پڑتی کاتب تقدیر کی“۔ حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا کہ 2020ءمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے بدترین سال رہا ہے۔