پاکستان میں بچتیں کرنے والوں کی شرح میں 30 ستمبر 2020 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران 38 فیصد اضافہ

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):سال 2019 کے مقابلہ میں 30 ستمبر 2020 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں بچتیں کرنے والوں کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہ کے مقابلہ میں تیسری سہ ماہی کے خاتمہ پر بچتوں کی شرح 11 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2020 کو ملک میں …

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):سال 2019 کے مقابلہ میں 30 ستمبر 2020 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں بچتیں کرنے والوں کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہ کے مقابلہ میں تیسری سہ ماہی کے خاتمہ پر بچتوں کی شرح 11 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2020 کو ملک میں بچت کرنے والے ایکٹو صارفین کی تعداد 58.5 ملین تک بڑھ گئی ۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بچت کرنے والے صارفین میں 10 ملین کے قریب نمایاں اضافہ ہوا ہے جو مائیکرو فنانس کے شعبہ کی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ مزید برآں موبائل والٹس کی سہولت سے بھی بچت کرنے کی شرح بڑھی ہے۔ 30 ستمبر 2019 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے مقابلہ میں ستمبر 2020 کے اختتام پر بچت کرنے والوں کی تعداد میں 38 فیصد جبکہ جون 2020 کے اختتام کے مقابلہ میں یہ شرح 11 فیصد تک بڑھی ہے۔ پی ایم این کی رپورٹ کے مطابق 30 دسمبر 2020 کو مائیکر وفنانس کے تحت بچتوں کا حجم 321.5 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ اس طرح جون 2020 کے مقابلہ میں بچتوں کے حجم میں 9 فیصد جبکہ 2019 کے مقابلہ میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ تا ستمبر 2020 کے دوران بچتوں کے حجم میں 58 ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔ پی ایم این کے مطابق 30 ستمبر 2020 کے دوران تک مائیکرو فنانس کے شعبہ کے مجموعی قرضہ جات 309.4 ارب روپے تک بڑھ گئے۔ اس طرح جون 2020 کے مقابلہ میں قرضوں کے اجرا میں 3 فیصد جبکہ ستمبر 2019 کے مقابلہ میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اپریل تا جون 2020 کی سہ ماہی میں قرضوں کے اجرا میں کمی واقع ہوئی تھی تاہم رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران مائیکرو فنانس نیٹ ورک سے قرضوں کے حصول میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔