پاکستان میں تمام مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی میں مسیحی برادری کا کلیدی کردار ہے ۔مولانا طاہر اشرفی

لاہور۔3اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین اور غزہ پر واضح موقف پیش کیا،فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پوری امت مسلمہ ایک پیج پر ہے ،پاکستان میں تمام مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ،پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ پاکستان …

لاہور۔3اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین اور غزہ پر واضح موقف پیش کیا،فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پوری امت مسلمہ ایک پیج پر ہے ،پاکستان میں تمام مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ،پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ پاکستان مختلف مذاہب اور مسالک کے ماننے والوں کا ملک ہے جہاں بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بشپ آف اینگلیکن چرچ آف نارتھ امریکہ کے ہمراہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ دس روز قبل وہ چرچ میں موجود تھے جہاں رواداری اور مکالمے پر بات کی گئی تھی اور آج ایک بار پھر امن و برداشت کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے معزز مہمان شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ نے ہمیشہ امن، مکالمے اور رواداری کا پیغام دیا اور یہی تعلیمات انسانیت کو خوبصورت معاشرہ بنانے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے میدان میں مسیحی برادری کا کردار قابلِ تحسین ہے۔

فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں چرچ اور مسجد دونوں بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم و تشدد کی زد میں انسانیت ہے نہ کہ کوئی ایک مذہب۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا انسان محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے پیغام عمل کمیٹی قائم کی ہے جس میں پہلی مرتبہ غیر مسلم نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ حقیقی معنوں میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ آج محراب و منبر سے عوام میں ربط پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے ،معاشرہ میں سب سے زیادہ نقصان زبان و ہاتھ سے ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نئی نسل کو ایسے فتنوں سے دورکرنا ہے جو انہیں اسلام سے دور کررہے ہیں،ہمیں ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی اختلافات کو ختم کیا جا سکے،مساجد اتحاد کا مرکز تب بنیں گی جب آپس میں مکالمہ ہوگا۔کسی کو توہین مذہب پر اختیار نہیں کہ خود ہی جج بن جائے، ملک میں آج شدت پسندانہ رویوں کے خاتمہ کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پوری امت مسلمہ ایک پیج پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ مئی سے اب تک اللہ تعالی نے پاکستان کو فاتح بنایا، پہلے معرکہ حق اور پھر جنود الحرمین بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے قومی پیغام امن کمیٹی بنائی ہے جس پر چودہ ہزار علما ءکے دستخط موجود ہیں ،جہاد اسلام کا بنیادی رکن ہے اس کے ضابطوں پر شریعت کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے، کیا بے گناہوں کا قتل جہاد ہے، مساجد، امام بارگاہوں اوربازاروں میں بم دھماکے کرنا کیا یہ جہاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے،سب سے پہلے خود کش حملوں کے خلاف فتوے پاکستان علماء کونسل نے دیئے۔