ماہرین صحت نےتمباکو نوشی کے نقصانات ، تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور بین الاقوامی تجربات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے،ماہرین صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):ماہرین صحت نےتمباکو نوشی کے نقصانات ، تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور بین الاقوامی تجربات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سگریٹ نوشی مکمل طور پر ترک کرنا صحت کے لیے بہترین راستہ ہے تاہم ایسے بالغ افراد کے لیے شواہد پر مبنی متبادل طریقوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے جو متعدد کوششوں کے باوجود سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اس بات کا اظہار پاکستان ایسوسی ایشن آف فیملی فزیشنز کے سیمینار میں کیا گیا ۔ اس سیمینار میں دو قوموں کی کہانی پاکستان بمقابلہ سویڈن ؛کے عنوان سے پیش کیے گئے ایک تحقیقی تقابلی جائزے میں کہا گیا ہے کہ سویڈن میں تمباکو نوشی کی شرح گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر کم ہوئی، جبکہ پاکستان میں اس میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق سویڈن میں بالغ افراد میں سگریٹ نوشی کی شرح 2013ء میں 11 فیصد تھی جو 2024ء میں کم ہو کر 5.3 فیصد رہ گئی جبکہ پاکستان میں یہ شرح 2015ء کے 12.1 فیصد سے بڑھ کر 2023ء میں 12.4 فیصد ہوگئی۔ تحقیقی جائزہ عالمی ادارہ صحت کے رہنما اور ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ڈیلن ہیومن کی قیادت میں تیار کیا گیا، جسے ڈاکٹر رضوان جنید نے پاکستان ایسوسی ایشن آف فیملی فزیشنز کے ارکان کے سامنے پیش کیا۔ سیمینار میں مختلف طبی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ جائزے میں سویڈن میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی کی ایک اہم وجہ نکوٹین کی متبادل مصنوعات، جن میں اسنُوس، نکوٹین پاؤچز اور ویپنگ مصنوعات شامل ہیں، کی دستیابی اور استعمال کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تمباکو نوشی کے باعث صحت عامہ کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ملک میں تقریباً ہر چار میں سے ایک بالغ مرد تمباکو نوشی کرتا ہے جبکہ سالانہ ایک لاکھ 64 ہزار کے لگ بھگ افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوتے ہیں۔سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ سگریٹ نوشی مکمل طور پر ترک کرنا صحت کے لیے بہترین راستہ ہے تاہم ایسے بالغ افراد کے لیے شواہد پر مبنی متبادل طریقوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے جو متعدد کوششوں کے باوجود سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ شرکاء نے تمباکو نوشی کے نقصانات میں کمی، نکوٹین کی جدید مصنوعات، تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور بین الاقوامی تجربات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف فیملی فزیشنز کے ارکان نے بالغ تمباکو نوش افراد کے لیے کم خطرے والے متبادل تک رسائی سے متعلق متوازن قوانین کی حمایت کی تاہم اس کے ساتھ مصنوعات کے معیار، سخت حفاظتی اقدامات اور کم عمر افراد کی ان تک رسائی روکنے کو ناگزیر قرار دیا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ طبی ماہرین ایسی شواہد پر مبنی پالیسیوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں جو تمباکو نوشی کی روک تھام، نوجوانوں کو نکوٹین سے محفوظ رکھنے، سگریٹ نوشی ترک کرنے کی سہولیات بہتر بنانے اور جدید نکوٹین مصنوعات کے مؤثر ضابطے کو یقینی بنائیں۔







