پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح خوفناک حد تک زیادہ ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔7جولائی (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح خوفناک حد تک زیادہ ہے اور ہر سال دنیا میں تقریبا 10 ملین ہیکٹر جنگلات کی کٹائی ہوتی ہے جو پرتگال کے رقبے کے برابر ہے۔ اتوار کو یہاں پاکستان میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی پر کنٹرول کے موضوع پر ایک …

لاہور۔7جولائی (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح خوفناک حد تک زیادہ ہے اور ہر سال دنیا میں تقریبا 10 ملین ہیکٹر جنگلات کی کٹائی ہوتی ہے جو پرتگال کے رقبے کے برابر ہے۔ اتوار کو یہاں پاکستان میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی پر کنٹرول کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگلات کی اس کٹائی کا نصف حصہ جنگلات کے دوبارہ اگا سے متوازن ہو جاتا ہے جبکہ باقی نصف سبزہ ضائع ہو جاتا ہے۔ آبادی میں اضافہ، غربت اور درختوں کی غیر ضروری کٹائی پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں جنگلات کی کٹائی کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1947میں پاکستان کی آبادی صرف 37ملین تھی جو کہ گزشتہ سال 241ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اگر آبادی میں اضافہ اور جنگلات کی کٹائی اسی تیزی سے جاری رہی تو ہمارے جنگلات، جنگلی حیات اور شہد کی مکھیاں ناپید ہو جائیں گی۔ ان سنگین حالات میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے غذائی تحفظ کے چیلنجز مزید اضافہ ہو جائے گا اور لوگ بھوک اور افلاس کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریبا 60 فیصد جنگلات کو جلانے کی لکڑی اور 25 فیصد کو فرنیچر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ 15فیصد درخت شہری کاری کی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی ایک قومی چیلنج ہے اور پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر جنگلات کے تحفظ اور گرین ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکڑی کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس، کوئلے کی قلت اور خاص طور پر خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ایل پی جی سلنڈر کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے لکڑی کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ نیشنل فارسٹ پالیسی 2015 کے مطابق جنگلات پاکستان کے کل رقبہ کا پانچ فیصد ہیں اور ہر سال تقریبا 27,000ہیکٹر جنگلات کم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی پالیسی کے مطابق تمام صوبوں خصوصا خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں جنگلات کے وسائل پر ٹمبر مافیا کا زبردست دباو ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے زراعت کی پیداوار اور پانی کی دستیابی پر بھی منفی اثر پڑا ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی آئی ہے۔

پالیسی میں کہا گیا ہے کہ واٹرشیڈ علاقوں میں جنگلات کی کٹائی سے زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع اور سمندری حیات کے نقصان کے علاوہ جنگلی حیات اور آبی وسائل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا اور صورتحال قابو سے بالکل باہر ہو جائے گی۔