اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری برائے وزات بین الصوبائی رابطہ ندیم ارشاد کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سپورٹس انڈسٹری کی بہتری ،بحالی اور ملکی معیشت میں اس کے کردار کے حوالے سے بے پناہ مواقع موجود ہیں،اس حوالے سے کارپوریٹ سیکٹر کو ساتھ ملا کر پالیسی سازی پر کام کر رہے ہیں،سیاحت، پلیئرز کی بر ینڈنگ، نشریاتی حقوق، روزگار کے مواقع ، ٹکٹوں کی فروخت، بنیادی ڈھانچے …
پاکستان میں سپورٹس انڈسٹری کی بہتری ،بحالی اور ملکی معیشت میں اس کے کردار کے حوالے سے بے پناہ مواقع موجود ہیں،ندیم ارشاد کیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری برائے وزات بین الصوبائی رابطہ ندیم ارشاد کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سپورٹس انڈسٹری کی بہتری ،بحالی اور ملکی معیشت میں اس کے کردار کے حوالے سے بے پناہ مواقع موجود ہیں،اس حوالے سے کارپوریٹ سیکٹر کو ساتھ ملا کر پالیسی سازی پر کام کر رہے ہیں،سیاحت، پلیئرز کی بر ینڈنگ، نشریاتی حقوق، روزگار کے مواقع ، ٹکٹوں کی فروخت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی، ڈیجیٹل میڈیا، صحت اور فٹنس جیسے شعبوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے سامان کی ایکسپورٹ سپورٹس اکانومی کے نمایاں خدوخال ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سپورٹس اکانومی کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس سے معروف بزنس مین، سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ (ایف پی سی سی آئی )ظفر بختاوری،ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ ،ایئر وائس مارشل اعجاز ملک،بریگیڈیئر (ر)سلطان ستی،افضل گوندل ،عمران خان سمیت بلڈرز، ڈویلپرز، چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں، مینوفیکچررز، ایکسپورٹرز اور بزنس لیڈرز سمیت مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات نے خطاب کیا۔سیکرٹری وزات آئی پی سی نے تمام سٹیک ہولڈراز پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے شعبے کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں،ہماری سپورٹس انڈسٹری کی کارکردگی دنیا کیلئے مثال ہے،ہمیں اس کے سکیل کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی طرف سے دی گئی تجاویز کی روشنی میں پالیسی سازی کی طرف جائے گی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل یو نائیٹڈ بزنس گروپ ظفر بختاوری نے کہا کہ کھیلوں کی ترویج ،سپورٹس اکانومی اور کھلاڑیوں کی ترقی و بحالی کیلئے ایسے کانفرنس کے انعقاد پر سیکرٹری آئی پی سی اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے،بدقسمتی سے حکومت کے پاس سپورٹس،ایجو کیشن اور ہیلتھ جیسے شعبوں کیلئے بجٹ کی دستیابی بڑا مسئلہ ہے، کھیلوں کے شعبے کو ترقی دینے اور اس شعبے سے جڑی اکانومی کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کیلئے نجی شعبے کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے پرائیوٹ سیکٹر کو کھیلوں کے شعبے کی بہتری کیلئے موثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے،پوری دنیا میں پرائیویٹ سیکٹر کھیلوں کی اکانومی میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپانسر شپ کے بغیر کسی بھی سپورٹس کی ترویج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔حکومت جامع پالیسی تشکیل دے ہاکی،سکواش ،ٹینس سمیت ایسے کھیلوں جن میں پاکستان نے ہمیشہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے اس کیلئے پرائیوٹ سیکٹر سے سپانسر شپ کا جامع نظام وضع کرے۔انہوں نے سپورٹس بورڈ کو پیشکش کی وہ سپورٹس بورڈ اور ایڈورٹائرنگ ایجنسیوں کی ایسی کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیار ہیں جس سے دونوں شعبوں کے در میان تعاون کی نئی راہیں کھلیں ۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو کھیلوں کے شعبے سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ہمیں کرکٹ سے ہٹ کر باقی کھیلوں کو بھی پرموٹ کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیالکوٹ پاکستان کی سپورٹس سٹی ہے جس نے اس شعبے میں شاندار کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شہروں کے چیمبر آف کامرس کو کھیلوں کی ترقی کیلئے ٹاسک دے۔ہر چیمبر کسی علاقائی یا قومی کھیل کو سپانسر کر سکتا ہے۔ہم مل کر کام کریں گے اور پاکستان میں کھیلوں کے احیاء کیلئے پالیسی سازی سے نفاذ تک حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی سپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ نے کہا کہ تقریب کے آغاز پر شرکا کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی کھیلوں کی معیشت میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری آئی پی سی، جوائنٹ سیکرٹری سپورٹس بورڈ سمیت آئی پی سی کے افسران اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔








