پاکستان میں فنٹیک کی ترقی مضبوط اور قابلِ بھروسہ کور بینکنگ سسٹمز پر منحصر

طارق انجم اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن مالی خدمات بہت تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔ موبائل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 120 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح بینکنگ ایپس کے ذریعے لین دین اب ڈیجیٹل مالی سرگرمیوں کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل فنانس اب تجربہ یا رجحان نہیں رہا بلکہ عام …

طارق انجم

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن مالی خدمات بہت تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔ موبائل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 120 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح بینکنگ ایپس کے ذریعے لین دین اب ڈیجیٹل مالی سرگرمیوں کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل فنانس اب تجربہ یا رجحان نہیں رہا بلکہ عام عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان کا قومی ادائیگی کا نظام تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، جس سے پورے مالیاتی ایکو سسٹم میں اعتماد اور قابلِ بھروسہ کارکردگی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق راست کے اجرا سے اب تک تقریبا80 کھرب روپے کی 3 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز مکمل ہو چکی ہیں اور درجنوں مالیاتی ادارے اس سے منسلک ہیں جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ پورے نظام میں لین دین کا حجم بڑھ رہا ہے۔ یہ رفتار مالی شمولیت اور سہولت کے لیے خوش آئند خبر ہے لیکن ساتھ ہی یہ ایک امتحان بھی ہے۔ جب لین دین کا حجم اچانک بڑھتا ہے تو ان ایپس کی اسکرینوں پر کمزوریاں عموماً نظر نہیں آتیں ۔ اصل دبائو کور بینکنگ سسٹمز پر پڑتا ہے یعنی مختلف سروسز کے درمیان ربط، ڈیٹا کے بہائوکے نظام اور آپریشنل نظم وضبط جو بیلنس ، حدود، اسکورنگ یا مطابقت کو ہمہ وقت ہم آہنگ اور درست رکھتا ہے۔

ریاض میں مقیم فنٹیک اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ماہر اور کور سسٹمز منیجر، سید محمد فیصل کے مطابق پاکستان میں فن ٹیک کی آئندہ کامیابی کا دارومدار اب اس پر نہیں رہے گا کہ ایپس کتنی خوبصورت یا استعمال میں آسان ہیں بلکہ اس کا انحصار پس منظر میں موجود سسٹمز کی مضبوطی پر ہوگا۔ کور سسٹمز اور ڈیٹا انٹیگریشن کی قیادت کے دودہائی پر مبنی تجربے کی بنیاد پر وہ اپنا موقف پیش کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل اعتماد ایپ کی ظاہری خوبصورتی اور خصوصیات پر نہیں بلکہ اندورنی نظام کی مضبوطی پر بنتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بینک یا فنٹیک ادارے کا بنیادی نظام سست ہو، اس میں تسلسل نہ ہو یا وہ بار بار بند ہو جائے تو دنیا کی بہترین ایپ صارف کا اعتماد برقرار نہیں رکھ سکتی۔ فیصل کا نقطہ نظر عملی ہے، پائیداری کوئی ایک چیز نہیں بلکہ ایک مکمل حل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے بینکوں اور ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز کو تین اہم نکات پر توجہ دینی چاہیے۔

اول صلاحیت اور کارکردگی: کیا بینک کے سسٹمز زیادہ دبائو کے وقت بغیر سست ہوئے یا ٹائم آئوٹ اور چین ری ایکشن کی ناکامی کے کام کر سکتے ہیں؟تیسرا ڈیٹا کی تازگی اور درست فیصلے :کیا اپ ڈیٹس حقیقی وقت میں ہو رہی ہیں یا صارفین کو بیلنس میں تضاد اور اسٹیٹس میں تاخیر کا سامنا ہے؟تیسرا تسلسل: اگر بینک کا کور سسٹم اچانک خراب ہو جائے تو کیا بینک بغیر کسی طویل رکاوٹ کے فوری طور پر ڈیزاسٹر ریکوری سسٹم پر منتقل ہو سکتا ہے۔کئی اداروں میں اصل مسئلہ پیچیدہ نظام (انٹیگریشن اسپراول) کا ہے۔

جیسے جیسے نئے ڈیجیٹل چینلز، والٹس، اسکورنگ ٹولز اور تھرڈ پارٹی سروسز شامل ہوتی ہیں، ایک سسٹم کے ڈیٹا کی دوسرے سسٹم پر منتقلی بڑھ جاتی ہے اور ہر ایک منتقلی ممکنہ ناکامی بن جاتا ہے۔ فیصل فیچر بنانے اور سروس بنانے کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سروس بنانے کا مطلب ہے کہ آپ ڈائون ٹائم کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں، آپ ناکامی کی مشق کرتے ہیں، آپ ہر چیز کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اورخرابیوں کوسبق سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق یہی سوچ غیر مستحکم اور پائیدار نظام میں فرق ڈالتی ہے۔اسٹریٹجک کمیونیکیشنز ایڈوائزر نعمان شبیر کے مطابق پائیداری کی بات صرف آئی ٹی تک محدود نہیں ہے۔صارفین جب سروس میں خلل یا لین دین کی غلط واپسی کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اسے صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ہر بڑی یا دکھائی دینے والی ناکامی پورے مالیاتی شعبے کے لیے ایک ساکھ کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بینکوں کے لیے قابلِ اعتماد نظام قائم رکھنا ضروری ہے تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رہے،ڈیجیٹل چینلز میں لوگوں کا استعمال بڑھتا رہے ۔پاکستان کے کارپوریٹ اور بینکنگ لیڈرز کے لیے پائیداری محض تکنیکی ایجنڈا نہیں بلکہ گورننس ،چینج مینجمنٹ، واقعات پر ردعمل، وینڈر کی جواب دہی اور خدمت کی واضح سطح کے بارے میں توقعات ہے۔

آئی ٹی سروس مینجمنٹ اور کور سسٹمز کی قیادت کے تجربے کی بنیاد پر فیصل ایک سادہ لیکن اکثر نظرانداز ہونے والی بات کو واضح کرتے ہیں کہ پائیداری کو صرف آئی ٹی کا ضمنی معاملہ سمجھنے کی بجائے کاروباری کارکردگی کاکلیدی پیمانہ مانا جائے۔اس کا مطلب ہے کہ مضبوط اور قابلِ بھروسہ نظام کیلئے مستقل نگرانی، مشق اور بنیادی آپریشنل نظم وضبط ضروری ہے۔

فن ٹیک کی ترقی کی رفتار جاری رہے گی اور صارف کی توقعات بھی بڑھتی جائیں گی۔ مگر پاکستان کی ڈیجیٹل بینکنگ کے اگلے مرحلے کا انحصار ایپس کی خوبصورتی کی بجائے کور سسٹمز کی مضبوطی پر ہوگا۔سسٹم کے پیچھے کارفرما انجینئرنگ صارفین کیلئے ہر لین دین کو صحیح، بروقت اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔

 

مزید خبریں