چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مضبوط پارلیمانی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق اور تنازعات کے پرامن حل پر زور

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مضبوط پارلیمانی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق اور تنازعات کے پرامن حل پر زور

پنوم پن، کمبوڈیا ۔29اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ اور انٹر پارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے بانی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی امن اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے مضبوط پارلیمانی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کےیکساں اطلاق اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے نوم پن میں منعقدہ دوسری انٹر پارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس کے جنرل ڈیبیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ’’امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے یکجہتی‘‘محض ایک تصور نہیں بلکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔

ہمیں محض بیانات اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کاری میں اپنا کردار ادا کیا ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اختلافات کے حل کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور پل کا کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا تمام ریاستوں پر بلاامتیاز اور یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔ عالمی قوانین اور اصولوں کی تشکیل میں گلوبل ساؤتھ کو زیادہ مؤثر نمائندگی دی جائے۔

پارلیمانیں معاہدوں کی توثیق، احتساب کے فروغ اور منصفانہ بین الاقوامی اصولوں کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کر چکا ہےاس لیے پاکستان تنازعات کی قیمت سے بخوبی آگاہ ہے اور امن کے انتخاب پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے دوسری آئی ایس سی کی کامیاب میزبانی پر کمبوڈیا کی حکومت اور پارلیمان کو مبارکباد پیش کی جبکہ حالیہ قدرتی آفت پر نیپال کے عوام اور پارلیمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے آئندہ انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کے لیے انڈونیشیا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی روابط کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے آئی ایس سی کو ایک مستقل ادارے میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فوری ردعمل کے طریقہ کار،حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ مشنز اور امن و سلامتی کے معاملات پر مسلسل پارلیمانی روابط کا مؤثر نظام شامل ہونا چاہیے۔اجلاس کی مشترکہ صدارت کمبوڈیا کی سینیٹ کے فرسٹ وائس پریذیڈنٹ اوچ بوریٹ نے کی۔