وزیراعظم کو پمز آتشزدگی واقعہ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش ، کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افسران کو معطل اور فوجداری کارروائی کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کو پمز آتشزدگی واقعہ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش ، کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افسران کومعطل اورفوجداری کارروائی کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
لاہور۔29اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کو پمز آتشزدگی واقعہ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کر دی گئی،وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افسران کو فوری طور پر معطل کرنے اور انکے خلاف فوری کارروائی کرنے کی منظوری دے دی، وزیرِ اعظم نےکمیٹی کی جانب سے نشاندہی پر ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی خصوصی ہدایت کی اور کہا ہے کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،واقعہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ہفتہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطحی اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفی کمال، کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل (ر) خورشید اترا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔وزیرِ اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کر دی گئی۔وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کرنے اورانکے خلاف فوری کارروائی کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیرِ اعظم نےکمیٹی کی جانب سے نشاندہی پر ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔جن کے خلاف کارروائی کی منظوری دی گئی ان میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں ۔وزیرِ اعظم نے ان کے خلاف بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم نے سیکورٹی پر مامور کمپنی اور اسکے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ۔
وزیراعظم نے جان کی پرواہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کیلئے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے انعام کی منظوری دے دی۔وزیرِ اعظم کی وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم کی ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او- این آئی ایچ کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی ۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، انکی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی جائے۔وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت کی ،
رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی جائیگی۔وزیراعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،اس واقعہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے،بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں،واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائیگی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ غفلت سے کسی ماں سے اسکا لخت جگر جدا نہ ہوا۔تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی،
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا،واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا،واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے،آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا،
ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک بچے کی جان بچائی،آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا،صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے،وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا،نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قواعدکی خلاف ورزی پائی گئی،ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں،
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا ۔وزیرِ اعظم نے تحقیقات کو مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔







