طارق انجم اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری کے لیے موثر مالیاتی نظام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں جہاں علاج کا دارومدار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مالیاتی عمل کتنا شفاف اور بروقت ہے۔ ملتان کے ایک کینسر مریض کی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی …
پاکستان میں مریضوں کی علاج تک رسائی بہتر بنانے میں مالیاتی جدت کا اہم کردار ہے ، ہیلتھ کیئر فنانشل ایکسپرٹ شہزاد حیدر

مزید خبریں
طارق انجم
اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری کے لیے موثر مالیاتی نظام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں جہاں علاج کا دارومدار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مالیاتی عمل کتنا شفاف اور بروقت ہے۔ ملتان کے ایک کینسر مریض کی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے وہ اپنی ادویات وقت پر اس لیے حاصل کر لیتا ہے کہ اس کی اہلیت کی تصدیق فوری اور درست انداز میں مکمل کی جاتی ہے اورکو پے ( Co-pay )کے ذریعے فنڈ ز فوری جاری ہوجاتے ہیں۔یہ نتیجہ اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جو سرکاری و نجی شعبے پاکستان میں صحت کی مساوی فراہمی کے لیے کر رہے ہیں جہاں عوامی و نجی شراکت داری اور کمزور طبقوں کے لیے علاج کے اخراجات کم کرنے کے نئے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز، مرکزی تصدیق اور شفاف بلنگ جیسے حالیہ اقدامات نے اس نظام کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ مالی رکاوٹیں علاج میں تاخیر کا باعث نہ بنیں۔ اسی ماحول میں شہزاد حیدر کی چودہ برس سے زائد عرصے پر مشتمل خدمات ہیلتھ کیئر فنانس، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ہیلتھ انویسٹمنٹ میں بجٹ مینجمنٹ اور آڈٹ نظم وضبط کے ذریعے پالیسی اور مریض کے درمیان موجود خلیج کو کم کرتی ہیں۔پاکستان کے لیے شہزاد حیدر کی نمایاں خدمات میں مریض رسائی پروگرام کی تشکیل شامل ہے جو کو پے ( Co-pay ) ماڈل پر مبنی تھا۔ یہ پروگرام حکومتی، کارپوریٹ اور فلاحی فنڈنگ کو یکجا کرتا تھا جس میں فرنٹ لائن ٹیموں کے لیے سادگی اور آڈیٹرز کے لیے مکمل شفافیت برقرار رکھی گئی۔ اس ماڈل کے ذریعے دس ہزار سے زائد مستحق مریض جان بچانے والی ادویات تک واضح مالیاتی پروٹوکولز، ڈیجیٹل تصدیق اور تیز تر ادائیگی کے ساتھ رسائی حاصل کر سکے ہیں ۔
شہزاد حیدر کے مطابق جب ہر روپے کا ریکارڈ واضح ہو تو اعتماد خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ آپریشنل تفصیلات نہایت اہم ہوتی ہیں۔ اول، اہلیت کے معیار مختصر ہونے چاہئیں تاکہ وہ پاکستان میں ذاتی خرچ سے علاج کے پس منظر سے مطابقت رکھیں کیونکہ پیچیدہ شرائط مریضوں کو حصول سے روک دیتی ہیں۔ دوم کو پے ( Co-pay )کی حد واضح طور پر مقرر ہو تاکہ خاندان بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔ سوم داخلے اور منظوری کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ فنڈ کی ادائیگی میں تاخیر نہ ہو۔ شہزاد کے پروگرام میں مخصوص سافٹ ویئر، کال سینٹر ورک فلو اور باقاعدہ ڈیش بورڈز نے رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور منظوری کا وقت ہفتوں سے دنوں تک لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ہسپتال پہلے ایک ہی علاج پر توجہ دیتے ہیں، جیسے کینسر کے مریضوں کا علاج تاکہ نظام کو ترتیب دیا جا سکے۔ ہر ماہ ایک رپورٹ تیار ہوتی ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مریض کو داخلے کے بعد علاج شروع ہونے میں کتنے دن لگے، کتنے کیسز کا آڈٹ ہوا اور ادویات کی کمی کتنی بار سامنے آئی۔ یہی سادہ اعداد و شمار تصدیق کے عمل کو تیز کرتے ہیں، خریداری کے نظام کو بہتر بناتے ہیں، اور علاج میں رکاوٹیں کم کرتے ہیں۔ صوبائی صحت کے حکام خریداری کے فیصلوں کو محض مقدار کے بجائے اِن تصدیق شدہ نتائج سے جوڑ سکتے ہیں، جس کے بدلے میں وہ ادویات کی قیمتوں میں رعایت اور علاج کے آغاز میں تیزی حاصل کر سکتے ہیں۔ کارپوریٹ ڈونرز کے لیے بھی مسلسل مدد تب ممکن ہوتی ہے جب نتائج واضح ڈیٹا کی بنیاد پر سامنے آئیں ۔شہزاد حیدر کی مالیاتی مہارت ان اقدامات کو پائیدار بناتی ہے۔
انہوں نے ملٹی نیشنل ماحول میں بزنس پلاننگ اور انٹیگریشن کی قیادت کی جہاں یکساں برانڈ لیول رپورٹنگ نے بروقت اور درست فیصلہ سازی کو ممکن بنایا۔ بجٹ مینجمنٹ، کے پی آئیز اور شفاف رپورٹنگ کا یہی نظم و ضبط خصوصا ایسے وقت میں جب رسائی پروگرامز کو سہ ماہی جائزوں میں نتائج ثابت کرنے ہوتے ہیں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔اپنی خدمات کو عالمی سطح تک پھیلاتے ہوئے وہ مشرقِ وسطی کی ایک ممتاز کنسلٹنگ فرم میں اسٹریٹجک کنسلٹنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہاں وہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت صحت اور صنعتی مسابقت میں مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایف ڈی آئی/ڈی ڈی آئی کے امکانات کی نشاندہی، ریگولیٹری انسنٹیو ڈیزائن کرنا، اور معاشی زونز و وزارتوں کے ساتھ پالیسی فریم ورک کو ہم آہنگ کرنا شامل ہے ۔ شہزاد حیدر تین عملی اصول پیش کرتے ہیں۔ پہلا اصول سادگی ہے ۔
ایسے اصول اور اہلیت کے معیار بنائے جائیں جن کی تصدیق مریض کے صرف ایک ہی وزٹ میں ہو جائے۔اور کو پے کی رقم اتنی واضح ہو کہ ہر مریض آسانی سے سمجھ سکے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ نظام کو شروع ہی سے مکمل ڈیجیٹل بنانے کی کوشش نہ کی جائے؛ پہلے مرحلے میں صرف اتنا انفرا اسٹرکچر تیار ہو کہ مریض کا اندراج، اس کی تصدیق اور ادائیگی کا ثبوت خودکار طریقے سے تیار ہو جائے، جبکہ پیچیدہ تجزیات بعد کے مراحل میں شامل کیے جائیں۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ تین سے پانچ بنیادی اشارئیے (میٹرکس) منتخب کر کے کم از کم ایک سال تک ان کی باقاعدہ رپورٹنگ کی جائے کیونکہ سرکاری ادارے اور ڈونرز یکساں اور مستقل ڈیٹا کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔








