اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اہم معاشی موڑ پر پہنچ چکا ہے، معاشی استحکام مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے ملکی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، معیشت اب محض استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے …
پاکستان میں معاشی استحکام ، اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے ملکی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال ، معیشت برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معروف امریکی جریدے میں شائع ہونے والا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اہم معاشی موڑ پر پہنچ چکا ہے، معاشی استحکام مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے ملکی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، معیشت اب محض استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ملک پائیدار طویل المدتی ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے۔
یہ خیالات انہوں نے (ایک جامع انٹرویو میں ظاہر کیے جو چند ہفتے قبل لیا گیا تھا اور اب معروف بین الاقوامی اخبار یو ایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والی 16 صفحات پر مشتمل خصوصی اشاعت "پاکستان سپیشل رپورٹ” میں شائع ہوا ہے)۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ابھرتے مواقع اور اہم پالیسی ترجیحات پر تفصیلی تجزیے اور ماہرین کی آرا شامل ہیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025 کا آغاز پاکستان نے بہتر معاشی بنیاد کے ساتھ کیا جس میں کلی معشیت کے استحکام، بیرونی کھاتوں میں بہتری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے مضبوط وابستگی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ برسوں بعد پہلی بار پاکستان نے پرائمری بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے جو مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے، ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ اس بہتری کا اہم سبب بنا جبکہ مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جس سے تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کا احاطہ ممکن اور شرحِ مبادلہ میں استحکام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ۔وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ اگرچہ معاشی استحکام ضروری بنیاد ہے تاہم پائیدار ترقی اصل چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد معاشی نمو مثبت ضرور ہے مگر تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کھپت اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، موجودہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی اصلاح اور ٹیرف اصلاحات شامل ہیں جن کا مقصد دہائیوں پر محیط تحفظاتی نظام کا خاتمہ اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ پاکستان اپنی معاشی حکمتِ عملی کو عالمی طلب میں تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے جہاں آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات نمایاں شعبے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی برآمدات چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور مناسب پالیسی تسلسل کے ساتھ آئندہ پانچ برسوں میں دوگنا ہو سکتی ہیں، برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور ٹیرف لبرلائزیشن ان گہری کمزوریوں کے حل کے لیے ہیں جو ماضی میں قومی خزانے پر بوجھ بنتی رہیں، یہ اصلاحات عالمی بینک کے اس تصور سے ہم آہنگ ہیں جسے اس نے پاکستان کے لیے ممکنہ “ایسٹ ایشیا مومنٹ” قرار دیا ۔
وزیرِ خزانہ نے عالمی بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ بھی دیا جو معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی کے مسائل پر توجہ دیتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار صرف مالی اشاریوں پر نہیں بلکہ آبادی میں تیز رفتار اضافے، موسمیاتی تبدیلی، بچوں میں غذائی قلت، تعلیمی پسماندگی اور بچیوں کی تعلیم میں شمولیت جیسے بنیادی مسائل کے حل پر ہے، خواتین کی تعلیم اور لیبر فورس میں شمولیت نہ صرف سماجی ضرورت بلکہ معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
موسمیاتی تحفظ کے حوالے سے انہوں نے سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر روشنی ڈالی۔وزیرِ خزانہ نے عالمی سطح پر موجود خطرات جیسے اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بیرونی قرضوں کا دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر حال میں اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی نظم و ضبط، پالیسی تسلسل اور عالمی تعاون حالیہ معاشی بہتری کے تحفظ کے لیے کلیدی عناصر ہیں۔سرمایہ کاروں کے لیے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے زراعت، معدنیات و کان کنی اور ڈیجیٹل معیشت کو ترجیحی شعبے قرار دیا۔ انہوں نے بلوچستان میں ٹیتھیان کاپر بیلٹ کی عالمی سطح پر بڑھتی اہمیت، زرعی شعبے کی وسیع صلاحیت و ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل سروسز میں ترقی کی طرف توجہ دلائی۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے اور اسی مقصد کے تحت ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے بالخصوص امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرانوں کے بیانیے سے نکل کر مواقع اور تبدیلی کے سفر میں داخل ہو چکا ہے اور پائیدار ترقی کے دہانے پر کھڑی اس معیشت میں شراکت کے خواہاں افراد اور اداروں کے لیے روشن امکانات موجود ہیں۔








