پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، غذائی قلت اور خوراک کی عدم تحفظ کے تناظر میں مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، غذائی قلت اور خوراک کی عدم تحفظ کے تناظر میں مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔یہ بات پاکستان فوڈ سسٹم ٹرانسفارمیشن سیکریٹریٹ (پی ایف ایس ٹی ایس)، جو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں قائم ہے، اور گلوبل الائنس فار امپروڈ نیوٹریشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ میں کہی …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، غذائی قلت اور خوراک کی عدم تحفظ کے تناظر میں مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔یہ بات پاکستان فوڈ سسٹم ٹرانسفارمیشن سیکریٹریٹ (پی ایف ایس ٹی ایس)، جو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں قائم ہے، اور گلوبل الائنس فار امپروڈ نیوٹریشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ میں کہی گئی۔

مکالمے کا عنوان تھا: ’’پالیسی سے عملی اقدامات تک – پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، غذائیت اور خوراک کی سیکیورٹی کے مربوط اقدامات کو فروغ دینا‘‘۔ڈائیلاگ میں مختلف وفاقی و صوبائی وزارتوں، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات اور تکنیکی ماہرین کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں خوراک کے نظام کو مضبوط بنانے اور غذائیت کے بہتر نتائج کے حصول کے لیے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی اور شدید موسمی واقعات زرعی پیداوار اور خوراک کی دستیابی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ قدرتی آفات کے باعث سالانہ اوسطاً تقریباً 2 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جس میں 83 فیصد حصہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ہے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی سازی، مالی وسائل کی فراہمی، ڈیٹا شیئرنگ اور نگرانی کے نظام میں ادارہ جاتی ربط کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مربوط حکمت عملی کے بغیر موسمیاتی لچکدار زرعی نظام اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔حکومتی نمائندوں، بشمول گرین بلوچستان انیشیٹو اور صوبائی ماحولیاتی تحفظ ایجنسیوں کے حکام نے قومی اور مقامی سطح پر مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے خوراک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پائیدار اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے۔

مقررین نے کہا کہ آئی کین جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان مربوط اور ماحولیاتی طور پر مستحکم خوراک کے نظام کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جس سے نہ صرف غذائیت میں بہتری آئے گی بلکہ موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں معاشی و سماجی استحکام بھی مضبوط ہو گا۔