اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا، پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے وائرس کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کئے ہیں، ووہان میں 4 پاکستانی طالب علموں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، نوول کرونا وائرس ایمرجنسی کورکمیٹی قائم کی …
پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا،وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا، پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے وائرس کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کئے ہیں، ووہان میں 4 پاکستانی طالب علموں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، نوول کرونا وائرس ایمرجنسی کورکمیٹی قائم کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، کرونا وائرس کے حوالے سے پروٹوکول اور ایس او پیز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر کرونا وائرس کی وجہ سے تشویش ہے۔ کرونا وائرس وائرل انفیکشن ہے، یہ وائرس نیا دریافت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوول کرونا وائرس پانچویں قسم ہے جو انسانی جسم کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماری سینے میں انفیکشن ہے، اس کی علامات مخصوص نہیں ہے، اس بیماری کے وائرس کو لیبارٹری میں جانچ کیے بغیر بتایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھانسی سانس لینے میں مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں دسمبر 2019ءمیں اس کے مریض آنا شروع ہوئے۔ 4 جنوری کو اس کی تشخیص ہوئی اور اسے نیا نام دیا گیا، آس پاس کے لوگوں میں منتقل ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری 2004ءمیں بھی چائنہ میں پھیلی تھی، جن لوگوں پر ریسرچ ہوئی ہے ان میں سے 3 فیصد لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بیماری میں شدت اور یہ پھیلتی بھی ہے لیکن اموات کی شرح کم ہے۔ پوری دنیا میں6052 لوگوں میں اس کی تشخیص کی جاچکی ہے ۔ 99 فیصد چین میں مریض ہیں۔ 132اموات بھی چین میں ہی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت نے زبردست اقدامات کیے ہیں جسے پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔ ووہان شہر 60 ملین آبادی ہے، اس شہر کے لوگوں کی دوسرے شہر میں نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی چینی شہری ملک سے باہر جانا چاہتا ہے، اس کو 14 دن ابزروشن میں رکھا جاتا ہے، اگر اس میں کوئی علامت ظاہر نا ہو تب اسے اجازت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین سے ایئر پورٹس یا پورٹس پر ایگزیٹ سکریننگ کی جاتی ہے، ان اقدامات کی وجہ سے چین نے پوری دنیا کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا وائرس کے سد باب کے لئے 21 اور23 جنوری کو ایک اجلاس کیا جس میں عالمی براداری کوہدایات جاری کی گئیں۔ ڈبلیو ایچ او نے عوام کو اس بیماری سے بچاو¿ کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ ریاست ہونے کے ناطے بہت سے اقدامات کئے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں کوئی بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریض نہیں، چار افراد کا شبہ تھا جنہیں انڈر ابزرویشن رکھاگیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 سے 30 ہزار پاکستانی چین میں مقیم ہیں جن میں طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووہان میں 500 طالب علم مقیم ہیںجن میں سے 4 پاکستانی طالب علموں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے چار طالب علموں کی فیملیز کو یقین دلایا کہ ان کے علاج ومعالجہ کی ذمہ داری ان پر ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہماری سفیر اور سفارت خانے کا عملہ دن رات محنت کر رہے رہا ہے اور ان سے مسلسل رابطے میں ہیں، ان کی صحت بگڑنے کے بجائے بہتر ہو رہی ہے اور میڈیا سے گزارش ہے کہ انہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر آپ کو ان کا علم ہو جائے تو ان کی شناخت کو میڈیا پر نہ لائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 6 ہزار 52 لوگوں میں اس بیماری کی تشخیص ہو چکی ہے جن میں سے 132 اموات چائنہ میں ہوئی ہیں اور اس بیماری کے 99 فیصد مریض چائنہ میں ہیں۔ 14 ملکوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جو ایک فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے پھیلاو¿ کو روکنے اور علاج معالجہ کے حوالے سے 21 ، 25 اور 27 جنوری کوایڈوائزری جاری کی گئی ہے جن میں سفری اقدامات سے متعلق آخری ایڈوائزری تھی۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ایچ کی ویب سائٹ پر تمام اپڈیٹ جاری کر دیئے گئے ہیں اور قومی سطح پر ہیلپ لائن بھی قائم کر رہے ہیں اور اس حوالے سے تمام وزرائے اعلیٰ ، تمام وزارتیں، این ڈی ایم اے اور تمام صوبوں کے افسران کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس بیماری کے تدارک کے لئے نوول کرونا وائرس ایمرجنسی کور کمیٹی قائم کی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ چین سے آنے والے مسافروں کی 3 طریقے سے اسکریننگ کی جا رہی ہے جس میں ایک فارم دے کر تھرمو گن سے سکرینگ اور تجزیہ کے علاوہ اگر ضرورت پڑے تو ائیسولیٹ بھی کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تقریباً 10 مختلف لوگوں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں جن میں پاک آرمی کی بھی نمائندگی ہے۔ یہ اقدامات ہم اس قابل بنائیں گے کہ ہم اس بیماری پر قابو پا سکیں۔ اس حوالے سے ایک ایمرجنسی فنڈ بھی شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی قسم کے خوف میں نہیں آنا چاہیے اور سنی سنائی باتوں کو آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے پروٹوکول اور ایس او پیز کو حتمی شکل دی جارہی ہے، وزارت صحت اپنی ذمہ داری کا ادراک رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے ہدایت دیں تھیں۔








