ملکی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں اور ترقی پسند کسانوں نے پاکستان میں کپاس کی پیداوارکی بحالی اور اضافہ کے لیے مربوط، جامع اور مشترکہ قومی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے
پاکستان میں کپاس کی پیداوارکی بحالی اور اضافہ کے لیے ملکی و بین الاقوامی ماہرین کا مشترکہ قومی حکمتِ عملی اپنانے پر زور
حیدرآباد۔ 14 اپریل (اے پی پی):ملکی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں اور ترقی پسند کسانوں نے پاکستان میں کپاس کی پیداوارکی بحالی اور اضافہ کے لیے مربوط، جامع اور مشترکہ قومی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان “کپاس کے بیج کی پیداوار اور ترقی: مسائل اور حل” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے کیا۔کانفرنس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ کپاس کے شعبے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرکاری تحقیقی و تدریسی اداروں، نجی بیج کمپنیوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ایک مضبوط اور مربوط پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔ماہرین نے کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیاں، درجہ حرارت میں اضافہ، بیج کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، زرعی اخراجات میں اضافہ، منڈی میں غیر مستحکم نرخ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو شامل کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ کپاس ایک اہم فصل ہے جو ملکی مجموعی پیداوار میں تقریباً ایک فیصد اور زرعی ویلیو ایڈیشن میں پانچ فیصد حصہ ڈالتی ہے، جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دہائی کے دوران کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں نمایاں کمی آئی ہے جو تقریباً 30 لاکھ ہیکٹر سے کم ہو کر 20 سے 22 لاکھ ہیکٹر رہ گیا ہے، جبکہ فی ہیکٹر پیداوار بھی جمود یا کمی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات کیڑوں کے حملے، موسمی دباؤ اور ناقص بیج ہیں۔ڈاکٹر الطاف علی سیال نے مزید کہا کہ معیاری اور مستند بیج کی کمی، ٹریس ایبل بیج نظام کا فقدان، بڑھتا ہوا کیڑوں کا دباؤ، موسمیاتی تغیرات اور تحقیق و توسیعی خدمات کے درمیان کمزور روابط کپاس کے شعبے کے بڑے مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے سائنسی، پالیسی اور عملی اقدامات کو یکجا کرنا ہوگا۔ نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محبوب علی سیال نے موسمیاتی برداشت رکھنے والے مستند بیج کی تیاری کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ 41 فصلوں کے بہتر بیجوں پر تحقیق کر رہا ہے۔سندھ آبادگار بورڈ کے سینئر وائس پریزیڈنٹ سید ندیم شاہ نے کہا کہ ناقص بیج، موسمیاتی تبدیلیاں، غیر متوازن کھاد اور غیر مؤثر زرعی ادویات کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہی ہیں۔ انہوں نے پالیسیوں کے فقدان اور زرعی اعداد و شمار کی عدم درستگی پر تنقید کرتے ہوئے ریٹائرڈ ماہرین پر مشتمل بریڈرز ایڈوائزری بورڈ کے قیام کی تجویز دی۔چینی ماہر مسٹر وانگ شن چن نے کہا کہ وہ پاکستان کے نجی شعبے اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر کپاس سمیت مختلف فصلوں کے بہتر بیج تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انٹرنیشنل سینٹر فار کاٹن ڈویلپمنٹ اینڈ سسٹینیبلیٹی (آئی سی سی ڈی ایس) کے سینئر ایڈوائزر شاہد منصور نے کہا کہ سندھ میں فی ایکڑ کپاس کی پیداوار پنجاب سے زیادہ ہے اور زرعی گریجویٹس کو نئی اقسام کی تحقیق پر توجہ دینی چاہیے۔نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے طارق خانزادہ نے کہا کہ دنیا کپاس کے بیج پر ملٹی جین ٹیکنالوجی تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان ابھی سنگل جین تک محدود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کپاس کی پیداوار میں بہتری ممکن نہیں اور کسان دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔بعد ازاں وائس چانسلر نے معزز مہمانوں کے ہمراہ زرعی نمائش کا افتتاح کیا جس میں سرکاری و نجی اداروں کے اسٹالز لگائے گئے تھے، جبکہ کانفرنس کے تکنیکی سیشنز کا بھی آغاز کیا گیا۔ کانفرنس میں ماہرین، زرعی صنعت سے وابستہ افراد، بریڈرز، ترقی پسند کسانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی









