اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت مکمل لاک ڈائون کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان میں 25 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں' وہ لاک ڈائون کیسے برداشت کر سکتے ہیں،اپوزیشن کورونا وائرس کی وباکے حوالے سے تنقید میں اس کا حل بتائیں، ماضی میں پی ائی اے ،سٹیل …
پی ٹی آئی کے رکن علی نواز اعوان کا قومی اسمبلی میںبجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت مکمل لاک ڈائون کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان میں 25 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں’ وہ لاک ڈائون کیسے برداشت کر سکتے ہیں،اپوزیشن کورونا وائرس کی وباکے حوالے سے تنقید میں اس کا حل بتائیں، ماضی میں پی ائی اے ،سٹیل ملز جیسے اداروں کی لوٹ سیل لگائی گئی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے علی نواز اعوان نے کہا کہ وہ وائرس سے نمٹنے والے ڈاکٹروں اور نرسز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی ہے لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ بجٹ پر بحث میں اب تک تنقید برائے تنقید کے سوا کوئی چیز دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کے لئے جو فنڈز آئے تھے ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ حکومت احتساب کے عمل کو غیر جانبدارانہ انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ چینی کے معاملہ پر رپورٹ اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تجارتی خسارہ کم کیا۔ حسابات جاریہ کا خسارہ ریکارڈ سطح پر کم کیا گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ ان کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔ ماضی کے حکمرانوں نے سرکاری اداروں کو خسارے میں چھوڑا ہے۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز سے صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے بیروزگار ہونے والے افراد کو روزگار کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اپنی استعداد اور وسائل کے مطابق اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 13 سال سے پی پی پی کی حکومت رہی ہے۔ وہ فنانس’ صحت ‘ تعلیم کے حوالے سے کوئی اچھی مثال پیش کرے تو ہم مانیں۔ ایک طرف روٹی کی بات کرتے ہیں دوسری طرف باردانہ اور گندم چوری کرتے ہیں۔ لاڑکانہ میں ایڈز اور کتوں کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 سال میں روٹی دینے کی بجائے گندم چھینی گئی۔ آج کراچی میں پینے کا پانی نہیں ہے۔ علی نواز اعوان نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں پبلک پرانسپورٹ نہیں ہے۔ 1.7 ارب کی کرپشن زکوٰة اور عشر میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔ 19 پر عمران خان کی پالیسی کو پوری دنیا نے سراہا ہے۔ ایک ماہ کے لاک ڈائون سے نو لاکھ افراد بیروزگار ہوئے ہیں۔ اگر وائرس صرف غریبوں کو لگتا تو یہ لوگ لاک ڈائون کی مخالفت کرتے۔ ہمارا ملک لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ میرے خاندان کے 13 لوگ متاثر ہوئے تاہم اس معاملہ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود سول سرونٹ کے بیٹے ہیں لیکن ہمیں حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین کے درد کو سمجھتے ہیں جیسے حالات بہتر ہوں گے ان کے لئے ریلیف دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی پی پی اٹھارہویں ترمیم کی بات کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد بھی کرے۔ اس ترمیم کے تحت لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کیوں نہیں بنایا جاتا۔ این ایف سی میں وفاق کا حصہ 700 ارب کے نقصان سے شروع ہوتا ہے۔ اس پر بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ پاکستان آگے جائے گا۔








