اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان نے ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق حالیہ دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام سے …
پاکستان نے امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق حالیہ دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان نے ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق حالیہ دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ڈائریکٹر برائے قومی انٹیلی جنس کے بیان پر پاکستان کے ردِعمل سے متعلق ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام، جو بین البراعظمیٰ حدِ مار سے کہیں کم ہے، بھارت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار کم از کم بازدار قوت (Credible Minimum Deterrence) کے نظریے پر مضبوطی سے قائم ہے، اس کے برعکس بھارت کی جانب سے 12,000 کلومیٹر سے زائد حدِ مار رکھنے والی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسے رجحان کی عکاس ہے جو علاقائی سلامتی کے تقاضوں سے آگے بڑھتا ہے اور بلاشبہ خطے اور اس سے باہر کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام، عدم امتیاز اور حقائق پر مبنی طرزِ عمل کی بنیاد پر تعمیری روابط کے فروغ کے لئے پرعزم ہے، ہم ایک متوازن اور سوچے سمجھے اندازِ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی تزویراتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاون ہو۔








