وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ تاریخ میں مقررہ مدت سے قبل 4700 ارب روپے سے زائد قرض واپس کر کے مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔
پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار وقت سے پہلے 4700 ارب روپے سے زائد قرض واپس کر دیا ، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار وقت سے پہلے 4700 ارب روپے سے زائد قرض واپس کر دیا ہے۔
منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فعال قرضہ جاتی انتظام کے ذریعے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی بار مقررہ مدت سے قبل 4722 ارب روپے (تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر) سے زائد قرض ادا کر دیا ہے۔حالیہ مرحلے میں 279 ارب روپے (1 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) کی خریداری (بائے بیک) کے بعد قبل از وقت قرض ادائیگی کا مجموعی حجم 4722 ارب روپے تک پہنچ گیا جو پاکستان کی تاریخ میں قرضوں کی سب سے بڑی اور مسلسل ادائیگی ہے۔ انہوں نے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر 2024 میں 826 ارب روپے، نومبر 2024 میں 200 ارب روپے، مارچ 2025 میں 273 ارب روپے، جون 2025 میں500 ارب روپے، اگست 2025 میں 1133 ارب روپے، نومبر 2025 میں 122 ارب روپے، دسمبر 2025 میں 494 ارب روپے، جنوری 2026 میں 300 ارب روپے، اپریل 2026 میں 595 ارب روپے اور مئی 2026 میں 279 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 2.9 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ مدت سے قبل ادا کیا گیا جو مالی سال 2024-25 کے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی قرض ادائیگی نہیں بلکہ فعال قرضہ جاتی انتظام کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس سے قرضوں کی ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات میں کمی آئی ہے ،قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات کم ہورہے ہیں جس سے قومی خزانے کو بچت حاصل ہوگی ، مالیاتی بہاؤ کے انتظام میں بہتری آئے گی ، سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط اور مالیاتی استحکام میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں تناسب مالی سال 2022-23 کے 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 کے تخمینے کے مطابق 68.5 فیصد کے قریب آ گیا ہے جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب قلیل مدتی قرضوں پر انحصار سے نکل کر طویل مدتی مالیاتی استحکام، خطرات میں کمی اور مؤثر بیلنس شیٹ مینجمنٹ کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔








