پاکستان نے خطے میں جاری بحران کم کرنے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایوان بالا میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو

پاکستان نے خطے میں جاری بحران کم کرنے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایوان بالا میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں جاری بحران کو کم کرنے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرنے کی خاطر بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں۔منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ابتدا ء سے ہی اس بحران میں سرگرم رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب ایران پر پہلا حملہ ہوا تو وہ مدینہ منورہ میں او آئی سی اجلاس کے بعد موجود تھے جہاں سے انہوں نے فوری طور پر دفترِ خارجہ سے رابطہ کیا اور ایک خودمختار ملک پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہدایت دی۔

اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور پاکستان کی حمایت اور ہمدردی کا پیغام دیا، ساتھ ہی خطے کے ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لئے متحرک کرنے کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل خطے اور دیگر ممالک بشمول چین، جاپان، برطانیہ، کینیڈا اور کئی یورپی ممالک سے رابطے میں رہا تاکہ تحمل اور کشیدگی میں کمی کو فروغ دیا جا سکے۔نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان ایک سہولت کار اور ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے اور حساس سفارتی کوششوں کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے احتیاط سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفترِ خارجہ اس عمل میں مکمل طور پر متحرک ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب نے 19 مارچ کو 12 ممالک کا اجلاس ریاض میں منعقد کیا جس میں پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کیا اور ایک متوازن مشترکہ اعلامیہ جاری کرانے میں کردار ادا کیا جس میں اسرائیل کی مذمت بھی شامل تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل چار ملکی گروپ بھی امن کے لئے کام کر رہا ہے اور اس کا آئندہ اجلاس جو پہلے استنبول میں ہونا تھا اب اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تین ممالک کے وزرائے خارجہ نے 29 مارچ کو پاکستان کا دورہ کیا جہاں دو طرفہ اور چار فریقی ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ چین کے ساتھ بھی اعلیٰ سطحی روابط ہوئے اور 31 مارچ کے دورے میں پانچ نکاتی امن منصوبے پر بات چیت کی گئی جو بعد میں منظر عام پر لایا گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا اور تعاون کی پیشکش کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آخری لمحے تک کوشش کی کہ فریقین کے درمیان بات چیت اور وقفے کی گنجائش پیدا کی جائے تاہم تازہ پیشرفت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں طویل تنازعہ دنیا اور پاکستان دونوں کے لئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور معیشت پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششیں خطے میں امن کی بحالی اور باعزت حل کی طرف لے جائیں گی۔

C

مزید خبریں