اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک حکمنامےکے تحت زمینی ملکیت کے قوانین میں بھارتی حکومت کی جانب سے غیرقانونی ترامیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی انتہائی قابل مذمت اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں ، پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک اور مثال ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے …
پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک حکمنامےکے تحت زمینی ملکیت کے قوانین میں بھارتی حکومت کی جانب سے غیرقانونی ترامیم کو یکسر مسترد کر دیا، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک حکمنامےکے تحت زمینی ملکیت کے قوانین میں بھارتی حکومت کی جانب سے غیرقانونی ترامیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی انتہائی قابل مذمت اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں ، پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک اور مثال ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں ، اور اس کے بعد کے اقدامات،بالخصوص ڈومیسائل قانون اور اب زمین کی ملکیت کے قوانین میں تبدیلی کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔ مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اور جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ان تمام اقدامات اور قوانین کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے ، جو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر بندوق کی نوک پر مسلط کر دئے گئے۔ترجمان نےاس بات کا اعادہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ تو مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حثیت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ، جسے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری نے تسلیم کیا ہے ، اور نہ ہی وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے جائز حق کو غصب کرسکتے ہیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے ڈھانچے اور الگ الگ شناخت کو تبدیل کرنے سے روکنے کے لئے فوری طور پر قدم اٹھائیں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازعہ حل کریں۔








