پاکستان نے کاسا-1000 بجلی کی ترسیل اور تجارت کے منصوبے کے تحت اپنے بنیادی ڈھانچے کا کام بڑی حد تک مکمل کر لیا ہے، کنورٹر سٹیشن پر کام 99.7 فیصد جبکہ اس سے منسلک الیکٹروسٹیشن پر 99.5 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
پاکستان نے کاسا-1000 منصوبے کا اپنا بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک مکمل کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):پاکستان نے کاسا-1000 بجلی کی ترسیل اور تجارت کے منصوبے کے تحت اپنے بنیادی ڈھانچے کا کام بڑی حد تک مکمل کر لیا ہے، کنورٹر سٹیشن پر کام 99.7 فیصد جبکہ اس سے منسلک الیکٹروسٹیشن پر 99.5 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب منصوبے کی تازہ صورتحال سے متعلق دستاویز کے مطابق پاکستان میں منصوبے کے تحت بائی پول 500 کلو وولٹ ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ کنورٹر سٹیشن کے ساتھ 66 کلو وولٹ گراؤنڈنگ الیکٹرو سٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔کنورٹر سٹیشن پر انجینئرنگ اور ڈیزائن کا کام 97 فیصد، خریداری 100 فیصد، سول ورکس 99.9 فیصد، تنصیب 99.9 فیصد جبکہ ٹیسٹنگ اور کمیشننگ 99 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ کنورٹر سٹیشن پر مجموعی پیش رفت 99.7 فیصد ہے،الیکٹروڈ سٹیشن بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جہاں انجینئرنگ اور ڈیزائن کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ خریداری، سول ورکس اور تنصیب میں سے ہر ایک پر 99 فیصد جبکہ ٹیسٹنگ اور کمیشننگ پر 98 فیصد کام مکمل ہوا ہے، الیکٹرو سٹیشن پر مجموعی پیش رفت 99.5 فیصد ہے۔
دستاویز کے مطابق منصوبہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہےتاہم اس کی مکمل کمیشننگ افغانستان میں ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل تک زیر التوا رہے گی جس کے ستمبر 2027 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔اس وقت تک سٹیشنز یکم اپریل 2026 سے 29 فروری 2028 تک میسرز ہٹاچی کی دیکھ بھال اور تحویل میں رہیں گے۔دستاویز کے مطابق منصوبے کے تجارتی آپریشنز یکم مئی 2028 سے شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم نظام کی مکمل ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا انحصار افغانستان کی ٹرانسمیشن لائن کی دستیابی پر ہے۔منصوبے کے پاکستانی حصے کو عالمی بینک کے دو قرضوں سے مالی معاونت حاصل ہے، قرض IDA-54090-PK کی مجموعی مالیت 12 کروڑ ڈالر ہےجس میں سے 9 کروڑ 94 لاکھ 37 ہزار ڈالر یعنی 82.86 فیصد استعمال کیے جا چکے ہیں۔
دوسرے قرض IDA-64320-PK کی مالیت 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہےجس میں سے 5 کروڑ 68 لاکھ 21 ہزار ڈالر یعنی 87.41 فیصد استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دستاویز کے مطابق پہلے قرض میں 97 لاکھ 42 ہزار ڈالر جبکہ دوسرے قرض میں 56 لاکھ 90 ہزار ڈالر کی رقم استعمال نہیں ہوئی۔ دونوں قرضوں کی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2028 ہے۔پہلے قرض کے معاہدے پر 11 مئی 2015 کو دستخط کیے گئے اور یہ 24 جنوری 2018 کو مؤثر ہواجبکہ دوسرے قرض کے معاہدے پر 26 نومبر 2019 کو دستخط ہوئے اور یہ 15 مئی 2020 کو مؤثر ہوا۔کنورٹر اور الیکٹروسٹیشنز تقریباً مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں منصوبے کی باقی سرگرمیاں زیادہ تر ٹیسٹنگ اور کمیشننگ سے متعلق ہیں جنہیں افغانستان میں ٹرانسمیشن لائن کی دستیابی تک مکمل طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔








