اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):حکومت پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں اپنے ترقیاتی شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں سے 10.4 ارب ڈالرکے نئے معاہدوں پردستخط کئے یہ شرح پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں 23.8 فیصد زیادہ ہے، حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.4 ارب ڈالرمالیت کی بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کی ہے جن میں 8.5 ارب ڈالراصل زر اور1.9 ارب ڈالر کا سود شامل ہے، توقع ہے کہ …
پاکستان نے گزشتہ مالی سال ترقیاتی شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں سے 10.4 ارب ڈالرکے نئے معاہدوں پردستخط کئے، غیرملکی اقتصادی معاونت کے حوالہ سے پہلی سالانہ رپورٹ
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):حکومت پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں اپنے ترقیاتی شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں سے 10.4 ارب ڈالرکے نئے معاہدوں پردستخط کئے یہ شرح پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں 23.8 فیصد زیادہ ہے، حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.4 ارب ڈالرمالیت کی بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کی ہے جن میں 8.5 ارب ڈالراصل زر اور1.9 ارب ڈالر کا سود شامل ہے، توقع ہے کہ ترقیاتی شراکت داروں کی مسلسل حمایت اورتعاون سے بیرونی معاونت کے شعبہ میں مثبت رحجان کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ بات وزارت اقتصادی امور کی جانب سے مالی سال 2019-20 میں غیرملکی اقتصادی معاونت کے حوالہ سے پہلی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بیرونی ترسیلات، ملک سے سرمایہ کے بہاو، بیرونی قرضہ اوربیرونی قرضہ کی ادائیگیوں کی تفصیلات کااحاطہ کردیا گیاہے۔وزارت اقتصادی امورکے ترجمان نے جمعہ کویہاں جاری بیان میں کہاہے کہ اس رپورٹ کا مقصدشہریوں بشمول محققین، ماہرین اقتصادیات اورترقیاتی شراکت داروں کوپاکستان کیلئے بیرونی معاونت کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کرانا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ حکومت پاکستان ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل غربت اورعدم مساوات کے خاتمہ کیلئے پائیدارسماجی اوراقتصادی بڑھوتری اورکلی معیشت کے استحکام کیلئے مالیاتی عدم توازن کے خاتمہ کے دواہم سٹریٹجک اہداف کیلئے بیرونی معاونت وصول کررہاہے۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گزشتہ مالی سال میں حکومت پاکستان نے اپنے ترقیاتی شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں سے 10.4 ارب ڈالرکے نئے معاہدوں پردستخط کئے یہ شرح پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں 23.8 فیصد زیادہ ہے، مالی سال 2018-19 میں حکومت نے 8.4 ارب ڈالرکے معاونتی معاہدوں پردستخط کئے تھے۔ گزشتہ مالی سال میں کئے جانیوالے معاہدوں کے تحت ترقیاتی شراکت دارآئندہ پانچ سے لیکرچھ سالوں میں اعلان کردہ فنڈز فراہم کریں گے ، اس سے سماجی واقتصادی ترقی کے منصوبوں، اقتصادی اصلاحات اورادائیگیوں میں توازن میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مالی سال 2019-20 میں دوطرفہوکثیرالجہتی شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں نے 10.7 ارب ڈالر فراہم کئے ، ان میں سے دوتہائی سے زیادہ فنڈز ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، ایشین انفراسٹرکچرڈولپمنٹ بینک ،چین، سعودی عرب اوربرطانیہ جیسے کثیرالجہتی اوردوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے فراہم کئے گئے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ کثیرالجہتی اوردوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے ترسیلات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات اورپالیسیوں بشمول مالیاتی اور قرضہ کے انتظام وانصرام، توانائی اورکاروبارمیں آسانیوں کیلئے اصلاحات کے نفاذ پراعتماد کا مظہرہے۔ کثیرالجہتی اوردوطرفہ شراکت داروں اورغیرملکی بینکوں کی جانب سے نئے اعلانات زیادہ مدت اور رعایتی نوعیت کے ہیں جوپاکستان کی بیرونی ادائیگیوں اورقرضوں کے بہترپروفائل کی عکاسی کررہاہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق بیرونی قرضوں کی ساخت میں رعایتی بیرونی قرضوں کی وجہ سے بہتری آئی ہے، ان رعایتی قرضوں کا حجم 3.7 ارب ڈالرتک بڑھا ہے جبکہ مارکیٹ کی بنیادپرقرضوں کے حجم میں 2.06 ارب ڈالرکی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.4 ارب ڈالرمالیت کی بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کی ہے جن میں 8.5 ارب ڈالراصل زر اور1.9 ارب ڈالر کا سود شامل ہے۔ترجمان نے بتایا کہ توقع ہے کہ ترقیاتی شراکت داروں کی مسلسل حمایت اورتعاون سے بیرونی معاونت کے شعبہ میں مثبت رحجان کا سلسلہ جاری رہے گا۔









