پاکستان نے 8 اپریل 2026 کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بروقت اور مکمل طور پر کر دی ہے،مشیرخزانہ خرم شہزاد
پاکستان نے 8 اپریل 2026 کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بروقت اور مکمل طور پر کر دی ہے،مشیرخزانہ خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ پاکستان نے بیرونی قرضوں کے انتظام کے معمول کے عمل کے تحت 8 اپریل 2026 کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بروقت اور مکمل طور پر کر دی ہے، دیگر یورو بانڈ اجراء پر واجب الادا ء 126.125 ملین ڈالر کے کوپن واجبات بھی ادا کر دیئے گئے،بروقت ادائیگیوں سے عالمی سطح پر پاکستان کے مالیاتی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
منگل کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے کہاکہ آج کی مجموعی ادائیگیوں کا حجم 1.426 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہےجس سے پاکستان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کے تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ قرضوں کی ادائیگی کا عمل معمول کے اقدام کے طور پر جاری ہے جو پالیسی کے تسلسل، مالی نظم و ضبط اور بڑھتی ہوئی ادائیگی کی صلاحیت کا مظہر ہے۔ اس طرح کی بڑی بیرونی ادائیگیوں کی بغیر کسی رکاوٹ کے تکمیل پاکستان کی مالیاتی ساکھ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مشیرخزانہ نے کہاکہ ادائیگیوں کے حوالہ سے بہترکارکردگی کی بنیاد کئی اہم عوامل پر ہے جن میں مستحکم بیرونی مالیاتی ذخائر، بہتر لیکویڈیٹی، کلی معیشت کے استحکام میں تسلسل اور معاشی لچک شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور قرضوں کے بوجھ کو زیادہ پائیدار اور نظم و ضبط کے ساتھ سنبھالنے کی حکمت عملی بھی اس پیش رفت کی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر بیرونی قرضوں کی بروقت اور ہموار ادائیگی نہ صرف ملک کی مالی صلاحیت کو ظاہر کررہی ہے بلکہ اس سے عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے سامنے پاکستان کی ساکھ اور اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں مددملے گی۔
مشیرخزانہ نے کہاکہ اس طرح کی ادائیگیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے اور بیرونی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت میں بہتری آ رہی ہے۔انہوں نے اس پیشرفت کو ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط معاشی بنیادوں اور بہتر ہوتے ہوئے خودمختار مالیاتی منظرنامے کی بدولت قرضوں کی ادائیگی اب ایک معمول کا عمل بنتی جا رہی ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے مالیاتی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔








