اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) کی جانب سے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی جاری کردیاگیاہے۔ یہ اقدام ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے پاکستان میں منظم اور باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کی جاری کوششوں کا حصہ ہے، این او سی کا اجراء پی وی اے آر اے کی جانب سے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مشترکہ …
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) کی جانب سے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی جاری کردیاگیاہے۔ یہ اقدام ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے پاکستان میں منظم اور باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کی جاری کوششوں کا حصہ ہے، این او سی کا اجراء پی وی اے آر اے کی جانب سے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مشترکہ مشاورت اور باضابطہ جائزہ کارروائی کے بعد کیا گیا، اس جائزے میں گورننس سٹرکچر، کمپلائنس فریم ورک، رسک مینجمنٹ کنٹرولز اور ورچوئل اثاثوں سے متعلق پاکستان کے ابھرتے ہوئے ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگی کا جائزہ شامل تھا۔ این او سی کے حصول کے بعد بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں ہدف شدہ ریگولیٹری نگرانی کے تحت ابتدائی تیاری اور مشاورتی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت مل گئی، یہ این او سی مکمل آپریٹنگ لائسنس نہیں ہے۔
این او سی کے تحت ایف ایم یو کے گو اے ایم ایل سسٹم پر رپورٹنگ اینٹٹیز کے طور پر رجسٹریشن کا آغاز کیا جا سکے گا۔ ایس ای سی پی کے ساتھ رابطہ کر کے پاکستان میں اپنی ریگولیٹڈ مقامی سبسڈیریز کا اندراج ممکن ہو سکے گا۔ لائسنسنگ ریگولیشنز کے اجرا کے بعد مکمل وی اے ایس پی لائسنس درخواستوں کی تیاری اور جمع کرائی جا سکے گی۔ گو اے ایم ایل رجسٹریشن کی تکمیل کے بعد پی وی اے آر اے کے ضوابط کے مطابق اے ایم ایل رجسٹرڈ سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔ یہ پیشرفت ورچوئل ایسٹ سیکٹر کی ریگولیشن کے لیے پی وی اے آر اے کے مرحلہ وار اور رسک بیسڈ طریقہ کار کی عکاسی اور بین الاقوامی ریگولیٹری طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے۔
اتھارٹی کا مقصد ذمہ دارانہ جدت کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی شفافیت، صارف کے تحفظ اور مالی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔وفاقی وزیرخزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب نے اس موقع پربتایاکہ منظم این او سی فریم ورک کا آغاز پاکستان کے مالی نظم اور ذمہ دارانہ جدت کے عزم کا ثبوت ہے، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے حصے کے طور پر پی وی اے آر اے دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی بن رہی ہے۔
اتھارٹی نے پہلے ہی اے آئی سے چلنے والا ایپلی کیشن ایویلیوایشن سسٹم، ان ہاؤس اے آئی پر مبنی ریکروٹمنٹ پورٹل اور ریگولیٹری دستاویزات کے جائزے کے لیے اے آئی اسسٹڈ ٹول متعارف کرا دیا ہے۔اس ٹول سے نگرانی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے اور پاکستان عالمی ریگولیٹری معیار سے ہم آہنگ ہوا ہے
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پی وی اے آر اے ریگولیٹری فریم ورک کے آئندہ مراحل کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی۔ لائسنسنگ معیارات، کمپلائنس تقاضوں اور نگران توقعات سے متعلق اضافی رہنما اصول مناسب وقت پر جاری کیے جائیں گے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چئیرمین بلال بن ثاقب نے بتایا کہ آج پاکستان کے ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، این او سی کا اجراء مکمل لائسنس یافتہ اور ریگولیٹڈ ماحول کی طرف پہلا قدم ہے، این او سی کے اجراء سے صارف کے تحفظ، مالی شفافیت اور ذمہ دارانہ جدت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
بلال بن ثاقب نے بتایا کہ مرحلہ وار اور بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ طریقہ کار کے ذریعے پاکستان اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ صرف بہتر گورننس رکھنے والے، مکمل طور پر مطابقت یافتہ عالمی پلیٹ فارمز ہی لائسنسنگ کے اگلے مراحل تک پہنچیں۔ یہ فریم ورک پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معیار سے ہم آہنگی کو مضبوط بناتا ہے اور قومی سطح پر مضبوط اے ایم ایل اورسی ایف ٹی اقدامات کے عزم کا اعادہ ہے۔
پاکستان کے ڈیجیٹل مارکیٹ میں داخل ہونے والی ہر کمپنی کو شفافیت، گورننس اور رسک مینجمنٹ کے اعلی ترین معیار پر پورا اترنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا میں کرپٹو اپنائے جانے کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اور یہاں 3 سے 4 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ صنعت کے تخمینوں کے مطابق پاکستان سے منسلک سالانہ ڈیجیٹل ایسٹ ٹریڈنگ سرگرمی کا حجم 300 ارب ڈالر سے زائد ہے،اسی تناظر میں اتھارٹی نے بروقت اور منظم ریگولیشن کو ترجیح دی ہے تاکہ تمام مارکیٹ سرگرمی کو شفاف، باقاعدہ اور بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ فریم ورک میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ پی وی اے آر اے کی یہ پیش رفت واضح ریگولیٹری عزم کی غمازی کرتی ہے۔
نگرانی میں تاخیر کے بجائے اتھارٹی نے فیصلہ کن انداز میں ریگولیٹری موجودگی قائم کی، اینٹی منی لانڈرنگ اورسی ایف ٹی تقاضوں کو لاگو کیا۔ بلال بن ثاقب نے بتایا کہ عالمی مارکیٹس کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان واضح قوانین، مضبوط گورننس اور فعال نگرانی کے تحت ذمہ دارانہ جدت کے لیے تیار ہے۔








