پاکستان ٹینس فیڈریشن اکتوبر میں اسلام آباد میں دو بین الاقوامی ویمنز فیوچرز ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گی

پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف)نے بتایا ہے کہ وہ اسلام آباد میں 5 اکتوبر 2026 سے آئی ٹی ایف ویمنز فیوچرز( W15) کے دو بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گی۔

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف)نے بتایا ہے کہ وہ اسلام آباد میں 5 اکتوبر 2026 سے آئی ٹی ایف ویمنز فیوچرز( W15) کے دو بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گی۔ یہ مقابلے بلی جین کنگ کپ سے قبل منعقد ہوں گے۔ یہ پاکستان اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کےلئے ایک تاریخی سنگِ میل ہے کیونکہ ملک میں پہلی مرتبہ مسلسل دو آئی ٹی ایف ویمنز فیوچرز W15 ٹورنامنٹس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام خواتین ٹینس کے فروغ اور پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں عالمی معیار کے مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے پی ٹی ایف کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پی ٹی ایف کے صدر اعصام الحق قریشی نے کہا کہ فیڈریشن نے آئی ٹی ایف مینز فیوچرز ٹورنامنٹس کے ذریعے مرد کھلاڑیوں کو بہترین مواقع فراہم کیے، اور اب اکتوبر میں دو ویمنز فیوچرز ٹورنامنٹس کی میزبانی پر فخر ہے، جس سے خواتین کھلاڑیوں کو عالمی رینکنگ پوائنٹس حاصل کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں سے پاکستان کی صفِ اول کی خواتین کھلاڑیوں کو بھاری سفری اخراجات کے بغیر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا موقع ملے گا اور وہ آنے والے بلی جین کنگ کپ کی بہتر تیاری بھی کر سکیں گی۔ اس اقدام سے اُشنا سہیل، ماہین آفتاب، صوہا علی، رومیسہ ملک، بسمل ضیا ، مہک کھوکھر، زونیشہ نور، زینب علی راجہ، فاطمہ علی راجہ اور لائبہ دراب سمیت دیگر ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ پاکستان ویمن ٹینس ایسوسی ایشن، جو 2024 میں قائم کی گئی تھی، ملک میں خواتین ٹینس کی ترقی اور کھلاڑیوں کو بااختیار بنانے کےلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ پاکستان ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی صدر اسمٰی خاور خواجہ نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹس عالمی ٹینس میں پاکستان کے مقام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین ٹینس کی ترقی اور مستقبل کی چیمپئن کھلاڑیوں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ پی ٹی ایف کے سیکریٹری جنرل کرنل ضیاء الدین طفیل نے کہا کہ مسلسل دو W15 ٹورنامنٹس کی میزبانی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے قومی کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔