پاکستان پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا آبی ذخائر کے عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ (آج )پیر کو منائے جانے والے دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن پراپنے پیغام میں وزیر …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ (آج )پیر کو منائے جانے والے دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن پراپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن پاکستان اور اقوام عالم کو آبی ذخائر کے دیر پا تحفظ اور انتظام کے عزم کے اعادہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔

رواں سال یہ دن ’’آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری‘‘ کے نہایت موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے جو ہمیں آبی ذخائر کے ثقافتی پس منظر اور اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان1971 کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے جس کے تحت نوع انسانی کے لیے آبی ذخائر کے استعمال اور ان کے وسائل کے تحفظ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

یہ عالمی دن اسی معاہدے کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قابل بھروسہ آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، یہ ذخائر خشک سالی،سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیرات کے منفی اثرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ہمارے آبی ذخائر، بشمول جھیلیں اور گلیشیئرز، مقامی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تغیر سے بچائو اور پانی کے نظم و نسق کا باعث اور لاکھوں پاکستانیوں کے لیے آبی ذخائر ذریعہ معاش اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر میں کمی لوگوں کے روزگار میں کمی ،قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور سیلاب اور خشک سالی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تغیر سے بچنے کے لیے ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے، پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اوربھرپور انداز میں مسترد کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئیے آج کے دن اس عہد کی تجدید کریں کہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر ہم آبی ذخائر کو اپنا بیش قیمت قومی، ماحولیاتی، سماجی و ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ عالمی سطح پر پاکستان ممالک کے درمیان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔