اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو فیصلے کا سیاسی فائدہ ہو گا اور لوگ سمجھیں گے کہ انہیں برے وقت میں چھوڑنا نہیں چاہیئے۔ جمہوریت ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے اور جمہوریت کتنی بھی کمزور ہو آمریت سے بہتر ہے۔ میں یہ تو نہیں …
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی نجی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو فیصلے کا سیاسی فائدہ ہو گا اور لوگ سمجھیں گے کہ انہیں برے وقت میں چھوڑنا نہیں چاہیئے۔ جمہوریت ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے اور جمہوریت کتنی بھی کمزور ہو آمریت سے بہتر ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم انتخابات میں پنجاب سے سویپ کریں گے لیکن تمام صوبوں میں ہماری پوزیشن بہتر ہے۔جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ہو کیا رہا ہے“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف فیصلہ آ تو گیا ہے لیکن ابھی ان کے پاس ریلیف کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ موجود ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے کل کہا تھا کہ محمد نواز شریف سیاسی پناہ لیں گے لیکن یہ بات بھی ہے کہ ووٹ بنک آج بھی محمد شہباز شریف کا نہیں بلکہ محمد نواز شریف کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کو پنجاب ہم نے دیا لیکن انہوں نے جمہوریت کو اہمیت نہیں دی، ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں لیکن وہ پارلیمنٹ سے فیصلے کے لیے بھی تیار نہ ہوئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ نظریاتی سیاست سے دور ہو رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جمہوریت ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے اور جمہوریت کتنی بھی کمزور ہو آمریت سے بہتر ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے ساتھ کیوں جائیں گے اس نے تو دعوت دی نہیں اور ویسے بھی عمران خان کے ساتھ کون بیٹھے گا ؟ کوئی جماعت بھی عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں اور کیا عمران خان اتنی واضح اکثریت لے لیں گے کہ اکیلے حکومت بنا لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کے خلاف نہیں ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم انتخابات میں پنجاب سے سویپ کریں گے لیکن تمام صوبوں میں ہماری پوزیشن بہتر ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے شفاف ہونے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ یہ بات ضرور ہے کہ سوائے پی ٹی آئی کے تمام جماعتوں کے امیدواروں کو دباﺅ کا سامنا ہے۔








